لاہور (کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر علی حسام اصغر نے کہا ہے کہ پاکستان کو برازیل کی مارکیٹ سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور برآمدات بڑھانے کیلئے جامع، موثر اور شعبہ جات کی مطابقت سے حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے ، موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کی صلاحیتوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر میں برازیل کے شہر ساو پالو میں پاکستانی سفارتخانے کے ٹریڈ قونصلر/ہیڈ آف مشن ڈاکٹر بابر چوہان سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی، نائب صدر خادم حسین چوہدری، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران ذوالفقار علی چوہدری، ساحر مشتاق، محمد یاسین، علی رضا، شہزاد علی شاہ، سید عظمت علی، اعجاز غوری، شاہ بہرام، محمد علی اور حماد محمود، سابق سینئر نائب صدر ناصر حمید خان، سابق ایگزیکٹو کمیٹی ممبران سید سلمان علی اور آسیہ سائل خان نے بھی اظہار خیال کیا۔ علی حسام اصغر نے کہا کہ عالمی منڈیوں کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کا فروغ پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور شراکت دار ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان براہِ راست روابط بڑھانے کے ساتھ ساتھ نئی منڈیوں کی تلاش اور ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے تعاون کو مزید فروغ دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کاروباری برادری برازیل سمیت دیگر عالمی منڈیوں کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری روابط کو مزید مضبوط بنانے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔ متعلقہ حکام اور کمرشل مشنز کو چاہیے کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو مارکیٹ انٹیلی جنس، ممکنہ خریداروں کی معلومات اور بی ٹو بی روابط کے مزید مواقع فراہم کریں۔علی حسام اصغر نے ڈاکٹر بابر چوہان پر زور دیا کہ برازیل کو برآمدات کرنے والے بھارتی برآمد کنندگان کا ڈیٹا فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے تاکہ پاکستانی برآمد کنندگان ممکنہ مواقع کی نشاندہی کرتے ہوئے برازیل کی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھا سکیں۔ انہوں نے اس موقع پر لاہور چیمبر کے نو منتخب ایگزیکٹو کمیٹی ممبران کا بھی تعارف کرایا۔ڈاکٹر محمد بابر چوہان نے برازیل اور دیگر لاطینی امریکی ممالک کیلئے پاکستان کی برآمدات بڑھانے کیلئے جامع اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شعبہ وار حکمت عملی، مارکیٹ انٹیلی جنس، کمرشل ڈپلومیسی، جدت، مصنوعی ذہانت، عالمی معیار اور کاروباری برادریوں کے درمیان مضبوط روابط انتہائی اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو لاطینی امریکی منڈیوں کو شعبہ وار اور مصنوعات کی بنیاد پر ہدف بنانا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ لاطینی امریکا کے تناظر میں بعض منتخب شعبوں سے متعلق ایک ابتدائی دستاویز پہلے ہی کاروباری برادری کے ساتھ شیئر کی جا چکی ہے، جبکہ آئندہ ہر شعبے کیلئے تفصیلی منصوبہ بندی کو مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی نے کہا کہ پاکستان کو اپنی توجہ صرف روایتی برآمدی شعبوں تک محدود نہیں رکھنی چاہیے بلکہ ایسی غیر روایتی مصنوعات کی بھی نشاندہی ضروری ہے جنہیں پاکستان عالمی منڈیوں میں مسابقتی بنیادوں پر فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستند تجارتی اعدادوشمار اور مارکیٹ انٹیلی جنس پاکستانی کمپنیوں کو عمومی مارکیٹ تلاش کرنے کے بجائے مخصوص مصنوعات اور ممکنہ خریداروں کو ہدف بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ نائب صدر چودھری خادم حسین نے کہا کہ نے کہا کہ پاکستان کو عالمی منڈیوں تک رسائی کیلئے تجارتی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر کام کرنا ہوگا، جس میں مسابقت، مارکیٹ تک رسائی، مصنوعات کی مو¿ثر تشہیر و پوزیشننگ، معیار اور خریداروں کے ساتھ مضبوط کاروباری روابط پر خصوصی توجہ دی جائے۔سابق سینئر نائب صدر لاہور چیمبر ناصر حمید خان نے برازیل کی مجموعی درآمدی مارکیٹ میں پاکستان کے انتہائی محدود حصے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ برازیل کی درآمدات تقریباً 280 ارب امریکی ڈالر ہیں جبکہ ان میںپاکستان کا حصہ تقریباً 0.04 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ربڑ کی مصنوعات، ملبوسات، کاٹن ٹیکسٹائل، طبی سامان، پلاسٹکس، سرجیکل آلات، کھیلوں کے سامان اور دیگر شعبوں میں صلاحیت رکھنے کے باوجود برازیل کی مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ محدود ہونا تشویشناک ہے۔
برازیلی مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کیلئے جامع حکمت عملی ضروری ہے: علی حسام اصغر



















