خیبرپختونخواہ حکومت خود صوبے میں آئینی اقدام اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے: عظمیٰ بخاری

لاہور (مشرق نیوز) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت خود صوبے میں آئینی اقدام اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے۔ اپنے بیان میں صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کی زد میں ہے اور صوبے کا وزیراعلیٰ کنٹینر پر چڑھا ہے، 13 سال سے خیبر پختونخوا کی قسمت میں دھرنے،جلسے،ریلیاں اور لانگ مارچ ہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب صوبے میں امن و امان اور روزگار نہیں ہوگا تو وہاں کے لوگ امن اور روزگار کیلئے دوسرے صوبوں کا رخ کریں گے، جو حکومت اپنے ہی لوگوں کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتی اس کو حکومت میں رہنے کا کوئی حق نہیں، سیل آفریدی واحد وزیراعلیٰ ہیں جو اپنے صوبے میں ہی لاو لشکر کے ساتھ مارچ کر رہے ہیں۔

ن کا کہنا تھا کہ فیڈریشن کے خلاف ہرزہ سرائی کیلئے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے، سرکاری وسائل کو جتھوں کی سیاست کیلئے استعمال کرنا پی ٹی آئی کا پرانا وتیرہ ہے۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سہیل آفریدی نے صوبے میں قیام امن پر دہشت گردوں کو تحفظ دینے پر ترجیح دی ہے، خیبر پختونخوا اس وقت دہشت گردوں،م نشیات فروشوں اور سمگلروں کے رحم و کرم پر ہے۔

صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت خود صوبے میں آئینی اقدام اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے، خیبر پختونخوا کے لوگوں کو کسی صورت بھی دہشت گردوں اور جتھوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔