فوجی حل ممکن نہیں، ایران نے سعودیہ کویمن تنازع ختم کرانے کی پیشکش کردی


تہران،ریاض:(مشرق نیوز)فوجی حل ممکن نہیں، یمن تنازع ختم کرانے کو تیار ہیں، ایران نے سعودی عرب کو بڑی پیشکش کردی،ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا،خطے میں حالیہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

عباس عراقچی نے کہا فوجی نقطہ نظر پر اصرار ،سیاسی حل کو نظر انداز کرنا موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا، خطے کے بحرانوں کا کوئی فوجی حل نہیں ،ایران سعودی عرب ،یمن کے درمیان مذاکرات کے آغاز میں مدد ،سیاسی حل کے حصول کےلئے ہر طرح کی معاونت فراہم کرنے کوتیار ہے،ثابت ہو چکا یمن کا کوئی فوجی حل نہیں، صرف سیاسی مذاکرات ہی پائیدار امن لا سکتے ہیں۔

دوسری جانب پاسداران انقلاب نیوی نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند قرار دیتے ہوئے دنیا بھر کے بحری جہازوں کو خبردار کیا خلاف ورزی کرنےوالوں کاانجام تباہی ہوگا،آبنائے ہرمز سے جہازوں کا گزرنا ممنوع ہے،قوانین کی خلاف ورزی کرنےوالے جہازامریکی دہشتگرد فوج پر بھروسہ کرنے کی آگ میں جل کر راکھ ہوں گے،آبنائے ہرمز کے کھلا ہونے کا مطلب روزانہ 125 جہاز اور 2 کروڑ بیرل تیل کا گزرنا ہے، کیا اب ایسا ہو رہا ہے؟ نہیں،آبنائے بند ہے، امریکہ رات کے اندھیرے میں ایک آدھ جہاز نکال کر کہتا ہے آبنائے کھلی ہے۔