NCCIA، سائبر کرائم پر ٹک ٹاکر شاہ زیب سیالکوٹی سمیت 15 ملزمان گرفتار، 2 خواتین بھی شامل

لاہور (سپیشل رپورٹر) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی لاہور زون نے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر کی نگرانی میں سائبر جرائم، آن لائن مالی فراڈ، جعلی شادی بیورو، غیر قانونی کال سینٹرز اور سوشل میڈیا پر نازیبا مواد اپ لوڈ کرنے والے عناصر کے خلاف مختلف کارروائیوں کے دوران ٹک ٹاکر شاہ زیب سیالکوٹی سمیت مجموعی طور پر 15 ملزمان کو گرفتار کر لیا، گرفتار ملزمان میں دو خواتین بھی شامل ہیں جبکہ کارروائیوں کے دوران موبائل فونز، لیپ ٹاپ، سمیں، انٹرنیٹ ڈیوائسز، سسکو ڈائلر سافٹ ویئر اور دیگر اہم ڈیجیٹل شواہد قبضے میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے، این سی سی آئی اے حکام کے مطابق سیالکوٹ میں ایک خاتون کی جانب سے سوشل میڈیا پر نازیبا ویڈیو اپ لوڈ کئے جانے کی شکایت موصول ہونے پر تحقیقات کی گئیں، جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ٹک ٹاکر شہزیب سیالکوٹی کو سٹی ہاﺅسنگ سوسائٹی کے کمرشل ایریا سے گرفتار کیا گیا، ملزم کے قبضے سے سام سنگ گلیکسی ایس 21 الٹرا اور آئی فون 17 پرو میکس برآمد کئے گئے، ابتدائی تکنیکی جانچ کے دوران ملزم کے فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک اکاﺅنٹس کا جائزہ لیا گیا جبکہ شکایت سے متعلق ویڈیو آئی فون کے ڈاﺅن لوڈز فولڈر میں بھی موجود پائی گئی، این سی سی آئی اے نے ملزم کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی ہے، دوسری جانب ملتان میں جعلی شادی بیورو، آن لائن مالی فراڈ اور غیر قانونی کال سینٹر کے خلاف کارروائیوں میں مزید 14 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، خانیوال ٹول پلازہ کے قریب کارروائی کے دوران سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کے ذریعے مبینہ جعلی شادی بیورو چلانے اور رشتوں کا جھانسہ دے کر شہریوں سے رقم بٹورنے کے الزام میں چار ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے چار موبائل فون برآمد کئے گئے، ایک اور کارروائی میں جعلی برانچ لیس بینکنگ اکاﺅنٹس استعمال کرتے ہوئے خود کو ڈاکٹر، سنی یا ویزا ایجنٹ ظاہر کرکے شہریوں سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے ہتھیانے والے چھ ملزمان کو گرفتار کیا گیا، ملزمان کے قبضے سے چھ موبائل فون اور 11 سمیں برآمد ہوئیں جبکہ ملزمان کے استعمال میں آنے والے ڈیجیٹل ذرائع کی جانچ پڑتال جاری ہے، اسی طرح ملتان کی کچہری روڈ پر قائم ایک غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر دو خواتین سمیت چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا، این سی سی آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزمان متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کمپنیوں کے نام پر شہریوں کا ڈیٹا حاصل کرنے اور اسے مبینہ طور پر فراڈ میں استعمال کرنے میں ملوث تھے، کارروائی کے دوران 11 لیپ ٹاپ، پانچ موبائل فون، انٹرنیٹ ڈیوائسز، سسکو ڈائلر سافٹ ویئر اور فراڈ سے متعلق ڈیجیٹل ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا، این سی سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار تمام ملزمان سے تفتیش جاری ہے جبکہ قبضے میں لیے گئے موبائل فونز، لیپ ٹاپس، سموں اور دیگر ڈیجیٹل آلات کا فرانزک جائزہ لے کر سائبر جرائم کے نیٹ ورک سے وابستہ مزید افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے، حکام کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے ہراسانی، نازیبا مواد کی تشہیر، جعلی شناخت ظاہر کرکے مالی فراڈ، شہریوں کے حساس ڈیٹا کے غیر قانونی استعمال اور غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے کہا کہ شہریوں کو سائبر جرائم اور آن لائن فراڈ سے تحفظ فراہم کرنا این سی سی آئی اے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔