پاک چین دوستی ہسپتال کا افتتاح ،علاج مفت،اخراجات برداشت کرینگے ،شہباز

اسلام آباد :(بیورورپورٹ)پاک چین دوستی ہسپتال کا افتتاح ، وزیراعظم شہباز شریف کی افتتاحی تقریب میں شرکت اور ہسپتال کو پاک چین دوستی کی لازوال مثال قراردےدیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہاچین نے ہسپتال تحفے میں دیا تاہم کورونا کے بعد بندش انتہائی افسوسناک ،مجرمانہ غفلت تھی،ہسپتال کے تمام اخراجات حکومت پاکستان برداشت کرے گی ،مریضوں کو مکمل طور پر مفت علاج فراہم کیا جائے گا، اسلام آباد سمیت ملک بھر سے آنے والے مریض سہولت سے مستفید ہوسکیں گے۔

شہبازشریف نے کہاعوام کو بہتر علاج کی سہولیات فراہم کرنا ریاستی ذمہ داری،انڈس ہسپتال کی انتظامیہ نے سالانہ اخراجات اور سرمایہ کاری میں مناسب رعایت دی ،انڈس ہسپتال غیر منافع بخش بنیادوں پر طبی خدمات فراہم کر رہا ہے،پاک چین دوستی ہسپتال کا نام مستقل طور پر برقرار رہے گا، صحت کے شعبے میں عوام ،دکھی انسانیت کی خدمت سے بڑھ کر کوئی قومی خدمت نہیں، عوام کی خدمت کرنے والوں کو ہمیشہ دعائیں ملتی رہیں گی،وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کے اختتام پر پاک چین دوستی زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔

چینی سفیر جیانگ ژی ڈونگ نے کہا پاک چین فرینڈشپ ہسپتال وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی ،سرپرستی کا نتیجہ ،فرینڈشپ کا نام دیا جانا قابل تحسین ہے،وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں ،بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کردی، سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان کی معاشی ترقی ،عوامی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

دریں اثنا وزیر اعظم نے لاہور ،کراچی ائیرپورٹس کی ماسٹر پلانز کے تحت توسیع کی منظوری دیتے ہوئے کہاائیرپورٹس پر بین الاقوامی معیار کو مد نظر رکھ کر سہولیات مزید بہتر بناکرمسافروں کی سہولت کو ترجیح بنایا جائے، ہوائی اڈوں پر مسافروں کیلئے بہترین کیٹررز کی خدمات حاصل ،کھانے پینے کے معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہاتوسیعی منصوبوں کو معینہ مدت میں مکمل ،معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیاجائے،توسیعی منصوبوں ،مسافروں کی سفری سہولیات کو بہترین بنانے کیلئے اصلاحات کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی ،سفری سہولیات کو بہتر بنانے کیلئے بین الاقوامی شہرت یافتہ اداروں کی خدمات لی جائیں،افسروں و عملے کو اعلیٰ سروس ڈلیوری کی باقاعدہ تربیت فراہم ،ہوائی اڈوں پر موجود مختلف اداروں کے درمیان روابط کو مزید بہتر ،مسافروں کی سہولت کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔