پاکستان کو مہنگائی، موسمیاتی تبدیلی اور مالیاتی دباو جیسے چیلنجز کا سامنا ہے : صدر

لاہور (نمائندہ خصوصی) صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یوم سماجی انصاف کے موقع پر اپنے پیغام میں قرار دیا ہے کہ ہم آئین پاکستان میں درج انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے اصولوں سے متعلق اپنے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 3، 37 اور 38 ریاست کو پابند کرتے ہیں کہ استحصال کا خاتمہ کرے، برابری کو یقینی بنائے اور بالخصوص کمزور طبقات، تمام شہریوں کی فلاح و بہبود کو فروغ دے۔حکومت پاکستان سماجی اور معاشی بہبود کے فروغ کیلئے پرعزم ہے اور بلا امتیاز خوراک، رہائش، لباس، تعلیم اور طبی امداد جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہے۔مالیاتی دباو کے باوجود بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ جو قیام کے وقت 34 ارب روپے تھا، بڑھ کر موجودہ مالی سال میں 716 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جس سے ملک بھر میں ایک کروڑ گھرانوں کی معاونت ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان بیت المال، پاکستان پاورٹی الیوی ایشن فنڈ، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے ذریعے بھی اضافی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ اقدامات صحت، تعلیم، رہائش، خوراک، بلاسود قرضوں اور دیگر بنیادی خدمات تک مفت رسائی فراہم کرتے ہیں جبکہ بزرگوں، خصوصی افراد، خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور خواجہ سرا افراد پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔صوبائی حکومتیں بھی صحت، تعلیم، غذائیت، نوجوانوں کی مہارتوں کی ترقی، بزرگوں کی فلاح، خواتین کے بااختیار بنانے اور مالی شمولیت جیسے شعبوں میں ٹارگٹڈ پروگراموں کے ذریعے وفاقی کوششوں کی تکمیل کر رہی ہیں۔ نمایاں مثالوں میں خیبر پختونخوا میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس، پنجاب میں باہمت بزرگ پروگرام اور سندھ میں بینظیر ویمن ایگریکلچرل ورکرز سپورٹ پروگرام شامل ہیں۔پاکستان کو مہنگائی، موسمیاتی تبدیلی اور مالیاتی دباو جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جو کم آمدنی والے گھرانوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ ٹارگٹڈ اقدامات غریب ترین طبقات کو سہارا فراہم کرتے ہیں تاہم ضروریات اور وسائل کے درمیان خلا بدستور نمایاں ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کیلئے مسلسل اصلاحات، عوامی وسائل کے مو¿ثر استعمال اور صوبوں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مضبوط اشتراک کی ضرورت ہے۔سماجی انصاف کیلئے پاکستان کا عزم اقوامِ متحدہ کے منصفانہ اور پرامن معاشروں کے وژن سے ہم آہنگ ہے جیسا کہ قرارداد میں واضح کیا گیا ہے۔ ہم 2026 کیلئے اقوام متحدہ کے موضوع “شمولیت کو بااختیار بنانا، سماجی انصاف کیلئے خلیج کو پر کرنا” کی حمایت کرتے ہیں، جو غربت، عدم مساوات اور بے روزگاری کے خاتمے کیلئے جامع پالیسیوں اور سماجی تحفظ کے فروغ پر زور دیتا ہے اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کوممکن بناتا ہے۔عالمی سطح پر سماجی انصاف تاحال ایک نامکمل مشن ہے۔ وہ اقوام جو مذہب، نسل یا قومیت کی بنیاد پر قبضے، امتیاز یا محرومی کا شکار ہیں، بدستور مشکلات جھیل رہی ہیں۔ بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام منظم جبر اور معاشی محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی طرح فلسطین کے عوام طویل قبضے، ناکہ بندی اور بنیادی حقوق کی پامالی کا سامنا کر رہے ہیں۔ جبری بے دخلی، شہریوں کے خلاف تشدد اور بنیادی آزادیوں سے محرومی اس امر کو واضح کرتی ہے کہ انصاف میں پسند و ناپسند کی گنجائش نہیں ہوتی۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے اور احتساب کو ممکن بنائے۔آئیے ہم پاکستان کے اندر اور باہر انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے فروغ کیلئے اپنے عزم کی تجدید کریں۔ ایک منصفانہ معاشرہ، جو جامع معاشی پالیسیوں اور کمزور طبقات کی نگہداشت سے تقویت پاتا ہو، امن، خوشحالی اور قومی یکجہتی کی بنیاد ہے۔پاکستان اس مستقبل کیلئے کوشاں رہے گا جہاں سماجی انصاف محض ایک تصور نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہو۔