عمران ہسپتال منتقلی کیس ، توہین عدالت درخواست پر اعتراض ختم،نمبر الاٹ

اسلام آباد: (بیورورپورٹ)عمران خان ہسپتال منتقلی کیس میں پی ٹی آئی کی توہین عدالت درخواست پر اعتراض ختم، رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے نمبر الاٹ کر دیا۔

رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے توہین کے مرتکب افراد کو الزامات کی فہرست نہ بھیجنے کے اعتراض پرچیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے فہرست جمع کرا دی،اعتراض دور کر کے درخواست دوبارہ دائرکرنے پررجسٹرار آفس نے نمبر الاٹ کر دیا، عظمیٰ خان کی توہین عدالت درخواست کو 8/2026 نمبر لگایا گیا۔

عظمی خان نے جلد سماعت کیلئے درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایابانی کی صحت خراب ہو رہی ، جلد سماعت کا معاملہ صحت و لائف سے جڑا ، عدالتی فیصلے کی حکم عدولی کی گئی، کوئی وضاحت درکار تھی تو حکومت متعلقہ عدالت سے رجوع کرتی،عدالتی فیصلے سے انحراف نہیں کیا جا سکتا تھا، توہین عدالت کی درخواست رواں ہفتے سماعت کیلئے مقرر کی جائے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہارجسٹرار سپریم کورٹ سے سہولت سینٹر میں ملاقات ہوئی،درخواست کی جلد سماعت کیلئے رجوع کیا،بانی کی صحت بہت ضروری ہے، اپنا وعدہ پورا کردیا،برائے مہربانی بانی پی ٹی آئی کی فیملی ممبران سے ملاقات کرائیں، میری اطلاع کے مطابق حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے کا پلان آخری لمحے میں بدلا،پمزمیں بھی ضروری علاج نہیں کیا گیا،شفا ہسپتال میں علاج ہو جاتا تو بہت اچھا ہو جاتا، مایوس نہیں ، کوششیں دوبارہ کروں گا، رابطے نہیں چھوڑا کرتے۔

بیرسٹر گوہر نے کہابانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست ،بیان بازی نہیں ہونی چاہئے، سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد ہونا چاہئے تھا،سپریم کورٹ کے حکم پر اب بھی عمل ہو سکتا ہے اگر سننے والے سن رہے ہیں،پٹیشن پر نمبر لگ گیا ،متحدہ اپوزیشن اب قومی اسمبلی اور سینٹ میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے گی، عوامی مسائل اجاگر اور حکومت کا احتساب کریں گے،اپوزیشن جماعتوں کا متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

دوسری جانب سینٹ میں اپوزیشن ،حکومت ہسپتال منتقلی کے معاملے پر آمنے سامنے آگئے، گرما گرم بحث ہوئی۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا صحت پر سیاست نہ کرے کل ہم بھی حکومت میں آسکتے ہیں، آئین کا آرٹیکل 204کہتا سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے سے توہین عدالت لگ سکتی ہے،بانی پی ٹی آئی کو شفا ہسپتال لےجایا گیا نہ میڈیکل بورڈ بنا،سکیورٹی ایشو بہانہ ہے ، حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کیا،عدالتوں کو کمزور کیا جائے گا تو انصاف کی حکمرانی نہیں ہوگی ، عوام کا اداروں سے اعتماد اٹھ جائےگا۔

مشیر وزیراعظم رانا ثنا نے کہا طے ہوچکا عدالتوں میں زیر بحث معاملات پر قرارداد نہیں آسکتی،خلوص نیت سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا،آئندہ بھی کرینگے،حکومت ،سپریم کورٹ سمیت عدالتیں آئین کے تابع ہیں،علی ظفر کو بھی عدالت نہیں بننا چاہیے،سکیورٹی معاملات تھے،آخری لمحے پروگرام تبدیل کرکے عمران خان کوسرکاری ہسپتال لےجایاگیا، حکومت ،اپوزیشن کو عدالت نہیں بننا چاہیے،پی ٹی آئی عہدیداروں کے مطابق عمران خان صحت مند انسان ، حکومت نے بہترین طبی سہولیات فراہم کیں۔

رانا ثنا نے کہا پریس کانفرنس میں بانی پی ٹی آئی کا پیغام دیا گیا کام اٹھا کر رکھیں، پیغام وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کےلئے تھا، پریس کانفرنس میں کیوں بولا گیا؟،صحت پرپہلے کوئی کوتاہی کی گئی نہ آئندہ کریں گے۔