لاہور ( اپنے رپورٹر سے) نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر پنجاب اسمبلی کے ارکان نے کہا ہے کہ صوبوں کی تشکیل یا انتظامی ڈھانچے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا حتمی فیصلہ جماعتی قیادت کی مشاورت اور آئین و قانون کے مطابق ہی کیا جائیگا جبکہ عوام کو بنیادی سہولیات اور سرکاری امور ان کی دہلیز پر میسر آتے ہیں تو انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام میں اصولی طور پر کوئی قباحت نہیں۔ تاہم ضلع ساہیوال کو جنوبی پنجاب میں شامل کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا، ساہیوال تاریخی، انتظامی اور سیاسی اعتبار سے لاہور سے جڑا ہوا ہے اور اسے لاہور کے انتظامی حصے کے طور پر ہی برقرار رہنا چاہیے۔ قائمہ کمیٹی برائے قانون و پارلیمانی امور پنجاب اسمبلی کے رکن صوبائی اسمبلی ملک محمد ارشد اور قائمہ کمیٹی لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیئرمین پیر اشرف رسول نے روزنامہ مشرق سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام، انتظامی تقسیم اور عوامی سہولت کے حوالے سے اپنے اپنے موقف کا اظہار کیا۔ایم پی اے ملک محمد ارشد نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کیا جائے، اس میں آئین، قانون اور طے شدہ ضابطوں کو ہر صورت مدنظر رکھنا ہوگا۔ صوبوں کی تشکیل محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک اہم انتظامی اور آئینی معاملہ ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے، اس لیے اس حوالے سے تمام پہلوو¿ں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں عوام کو ضلعی سطح پر متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر انتظامی اصلاحات یا نئے صوبوں کے قیام کے نتیجے میں شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کیلئے دور دراز علاقوں کا سفر نہ کرنا پڑے اور سرکاری کام ان کے اپنے ضلع میں ہی آسانی سے انجام پانے لگیں تو یہ عوامی مفاد میں ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔ حکومت اور سیاسی قیادت کو انتظامی معاملات میں عوامی سہولت کو بنیادی ترجیح بنانا چاہیے۔ملک ارشد کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اور ذاتی رنجشوں کو ایک طرف رکھ کر قومی و عوامی معاملات پر سیاسی عمائدین اور قیادت اگر باہمی مشاورت سے کوئی متفقہ لائحہ عمل اختیار کریں تو اس سے بہتر راستہ کوئی نہیں۔ نئے صوبوں کا معاملہ بھی وسیع تر سیاسی مشاورت، آئینی تقاضوں اور عوامی خواہشات کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی نئے انتظامی یونٹ یا صوبے کے قیام کا مقصد عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ اگر تقسیم کے نتیجے میں عوام کے مسائل مزید بڑھ جائیں، اداروں کے درمیان اختیارات کا ٹکراو¿ پیدا ہو یا انتظامی پیچیدگیاں جنم لیں تو ایسے فیصلے پر دوبارہ غور ضروری ہوگا۔ ان کے مطابق اصل کامیابی یہ ہے کہ عام شہری کو سرکاری دفتر، صحت، تعلیم، بلدیاتی سہولیات اور دیگر بنیادی خدمات اپنے گھر کے قریب دستیاب ہوں۔دوسری جانب چیئرمین قائمہ کمیٹی لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ بورڈ پیر اشرف رسول نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے جماعتی قیادت جو بھی فیصلہ کرے گی، وہ قیادت کی مشاورت اور فیصلے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات میں قیادت پر اعتماد بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور نئے صوبوں کے معاملے پر بھی حتمی پالیسی جماعتی قیادت ہی طے کرے گی۔پیر اشرف رسول کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی معاملے میں سنی سنائی باتوں یا قیاس آرائیوں پر یقین نہیں رکھتے۔ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے جو کچھ بھی ہوگا، وہ قیادت کی مشاورت، پالیسی اور فیصلے کے مطابق ہوگا۔ اس لیے قیادت کے باضابطہ فیصلے سے قبل مختلف قیاس آرائیوں کو حتمی پالیسی قرار دینا مناسب نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا مقصد عوامی مسائل کو کم کرنا اور سرکاری اداروں کو عوام کے قریب لانا ہے تو اس پہلو کو ضرور دیکھا جانا چاہیے۔ عوام کو اپنے بنیادی مسائل کے حل کیلئے طویل فاصلے طے نہ کرنا پڑیں اور انہیں صحت، تعلیم، بلدیاتی سہولیات، ریونیو اور دیگر سرکاری خدمات اپنے علاقوں میں میسر ہوں تو انتظامی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔دونوں ارکان پنجاب اسمبلی نے اس امر پر اتفاق کیا کہ نئے صوبوں کا معاملہ جذباتی نعروں کے بجائے آئینی، قانونی، انتظامی اور عوامی مفاد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر نئی تقسیم سے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوتے ہیں، سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کیلئے آسان رسائی حاصل ہوتی ہے تو انتظامی اصلاحات کے اس عمل کو عوامی مفاد میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔تاہم دونوں رہنماو¿ں کے بیانئے میں یہ امر نمایاں رہا کہ صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل کے حوالے سے حتمی فیصلہ جماعتی قیادت کی مشاورت سے ہی کیا جائے گا اور کسی بھی مجوزہ تقسیم میں مقامی علاقوں کی شناخت، انتظامی وابستگی، عوامی سہولت اور آئینی تقاضوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
نئے صوبوں کی تشکیل کا فیصلہ مشاورت سے ہوگا :ارکان پنجاب اسمبلی


















