پنجاب میں 65 فیصد پانی کسانوں تک پہنچنے سے پہلے غائب، ٹیل خشک

لاہور (اپنے نمائندے سے) محکمہ آبپاشی پنجاب انتظامیہ کی نا اہلی، اربوں کے منصوبے مگر ٹیل بدستور خشک، پنجاب میں 65 فیصد پانی کسانوں تک پہنچنے سے پہلے غائب،58 ہزار میں سے 28,390 آوٹ لیٹس سے چھیڑ چھاڑ، 77,970 پانی چوری کیسز، صرف 6,518 مقدمات درج 82 ملزمان کو جیل بھیجا گیا اور مجموعی طور پر 34 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔محکمہ آبپاشی نہری نظام میں بہتری لانے اور کسانوں کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مبینہ طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ اس حوالے سے پنجاب کے نہری نظام پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود پانی کی منصفانہ تقسیم کا بحران ختم نہ ہو سکا ذرائع کے مطابق نہری نظام کی نگرانی اور پانی چوری کے خلاف کارروائیاں کاغذوں تک محدود ہیں جس کی وجہ سے ٹیل کے کسان اپنے مقررہ حصے کے 60 سے 65 فیصد پانی سے محروم ہیں، جبکہ صوبے کے 58 ہزار واٹر آوٹ لیٹس میں سے 28 ہزار 390 سے چھیڑ چھاڑ کی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں گزشتہ سال پانی چوری کے 77 ہزار 970 کیسز رپورٹ ہوئے، مگر صرف 6 ہزار 518 مقدمات درج کیے گئے پانی چوری کے ہزاروں واقعات کے باوجود صرف 3,805 کیسز میں کارروائی عمل میں لائی گئی، جبکہ عدالتوں میں محض 1,075 کیسز کے فیصلے ہوئے۔ ان مقدمات میں 82 ملزمان کو جیل بھیجا گیا اور مجموعی طور پر 34 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ذرائع کا کہنا ہے کہ پانی چوری کیلئے غیر قانونی پائپوں کا استعمال بھی بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق 25 ہزار 877 کیسز غیر قانونی پائپ لگا کر پانی چوری کرنے سے متعلق ہیں اس میں واٹر آوٹ لیٹس سے چھیڑ چھاڑ کے معاملے میں بہاولپور زون 16,454 کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ ملتان میں 2,962، فیصل آباد میں 2,909 اور لاہور میں 2,383 آوٹ لیٹس سے چھیڑ چھاڑ رپورٹ ہوئی جبکہ پنجاب کا نہری نظام تقریباً 3 ہزار نہروں پر مشتمل ہے، جس سے تقریباً 21 ملین ایکڑ اراضی سیراب ہوتی ہے، تاہم ٹیل کے 200 سے 300 نہروں کے کسان سب سے زیادہ متاثر قرار دیے جاتے ہیں رحیم یار خان میں گلن مائنر کینال سے مبینہ طور پر بعض مقامات پر غیر قانونی طور پر پانی فراہم کرنے کے عوض فی گھنٹہ ریٹ فکس کئے گئے ہیں ذرائع کے مطابق گزشتہ سال جنوری سے نہر خشک رہنے کے باعث تقریباً 50 ہزار ایکڑ رقبہ متاثر ہوا ہے احمد پور شرقیہ کی 1-LAP کینال برانچ کے ٹیل کے کاشتکاروں نے بھی کپاس کے سیزن میں پانی کی شدید قلت کی شکایات سامنے آئی تھی ہیڈ پر پانی دستیاب ہونے کے باوجود ٹیل تک مطلوبہ مقدار نہ پہنچنے سے فصلوں کی پیداوار اور زرعی آمدن متاثر ہو رہی ہے پانی چوری کے خلاف کارروائیوں کے اعداد و شمار قانون کے نفاذ کی صورتحال پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ لاہور زون میں 23 ہزار 380 ملزمان کے مقابلے میں صرف 10 گرفتاریاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اس صورتحال نے محکمہ آبپاشی، پولیس اور انتظامیہ کے درمیان پانی چوری کے مقدمات پر کارروائی کے نظام کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے پانی کے ترسیلی نقصانات کم کرنے کیلئے حکومت پنجاب نے پہلے مرحلے میں 10 ارب روپے سے 1,200 واٹر کورسز کی لائننگ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں 7 ہزار نہروں کی لائننگ کا منصوبہ ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ لائننگ سے پانی کا رساو¿ کم ہوگا اور بچنے والا پانی ٹیل کے کسانوں کو فراہم کیا جا سکے گا محکمہ آبپاشی کے مطابق پنجاب ایریگیشن ایکٹ 2023 کے تحت نہر کو نقصان پہنچانے یا غیر قانونی کٹ لگانے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ اور تین سال تک قید کی سزا ہے، محکمہ آبپاشی کے مطابق پانی چوری کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ 6 ستمبر 2026 کو ڈی آئی خان میں ڈسٹری بیوٹری نمبر 12 پر آپریشن کرکے غیر قانونی موگے مسمار کیے گئے، جبکہ چشمہ رائٹ بینک کینال پر 7 غیر قانونی کنکشنز ختم کرکے ایک سکشن پمپ ضبط کیا گیا پانی چوری کی روک تھام کیلئے PITB کے تعاون سے اسمارٹ فون ایپ بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ لاہور ڈویڑن میں پائلٹ منصوبے کے تحت ایریگیشن عملے کو 2,670 اسمارٹ فونز فراہم کیے جائیں گے تاکہ نہروں اور آو¿ٹ لیٹس کی نگرانی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کی جا سکے۔