پنجاب ، درآمدی گندم کا حصہ اور آٹے کی قیمت پر دباو برقرار

لاہور (نعیم جاوید) وفاقی حکومت کی جانب سے 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے عالمی ٹینڈر جاری ہونے کے بعد پنجاب میں گندم کے موجودہ ذخائر، روزانہ کھپت اور آٹے کی قیمتوں کے مستقبل پر بحث تیز ہوگئی ہے۔ درآمدی گندم کی پہلی کھیپ نومبر میں پہنچنے کی توقع ہے جبکہ وفاقی تقسیم کے مطابق پنجاب کو درآمد کی جانے والی گندم میں سے 2 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن ملے گی۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق پنجاب میں اس وقت تقریباً 19 لاکھ 70 ہزار میٹرک ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں۔ پنجاب حکومت نے پاسکو سے مزید 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے، تاہم محکمہ خزانہ پنجاب نے اس خریداری پر سوالات اٹھاتے ہوئے محکمہ خوراک سے صوبے کی طلب، رسد اور موجودہ ذخائر کی مکمل تفصیلات طلب کی ہیں اور گندم مرحلہ وار ضرورت کے مطابق خریدنے کی سفارش کی ہے محکمہ خوراک کے مطابق پنجاب میں گندم کی ماہانہ کھپت تقریباً 13 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جو یومیہ تقریباً 43 ہزار ٹن بنتی ہے۔ دوسری جانب فلور ملوں کو سرکاری گندم کی روزانہ ریلیز اور آٹے کی پیداوار کے اعدادوشمار الگ ہیں، اس لیے صوبے کی مجموعی گندم کھپت اور سرکاری ریلیز کو ایک ہی پیمانے پر نہیں دیکھا جاسکتاپنجاب حکومت کے مطابق رواں سال صوبے میں گندم کی پیداوار 2 کروڑ 20 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد رہی، جو صوبے کی سالانہ ضرورت سے تقریباً 55 لاکھ ٹن زیادہ بتائی گئی ہے۔ محکمہ خوراک کے ڈائریکٹر جنرل امجد حفیظ نے بھی کہا ہے کہ پنجاب کے پاس آئندہ فصل تک ضروریات پوری کرنے کیلئے گندم موجود ہے اور حکومت پاسکو سے حاصل شدہ گندم فلور ملوں کو فراہم کر رہی ہے وفاقی حکومت کے فیصلے کے تحت مجموعی 7 لاکھ 50 ہزار ٹن درآمدی گندم میں سے سندھ کو 3 لاکھ، پنجاب کو 2 لاکھ 50 ہزار جبکہ خیبرپختونخوا کو 2 لاکھ ٹن فراہم کیے جائیں گے۔ اس طرح پنجاب کا حصہ مجموعی درآمدی گندم کا تقریباً ایک تہائی بنتا ہے ذرائع کے مطابق پنجاب کو ملنے والی 2 لاکھ 50 ہزار ٹن درآمدی گندم صوبے کی موجودہ ماہانہ کھپت کے مقابلے میں نسبتاً محدود مقدار ہے، تاہم اس کا مقصد صرف ذخائر میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ مارکیٹ میں گندم کی رسد بہتر بنا کر قیمتوں کو قابو میں رکھنا بھی ہے دوسری جانب لاہور سمیت پنجاب کی اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں اضافہ آٹے کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔ اگست میں لاہور کی اوپن مارکیٹ میں گندم تقریباً 4 ہزار 650 روپے فی 40 کلو تک فروخت ہونے کی رپورٹ سامنے آئی تھی جبکہ سرکاری گندم فلور ملوں کو 3 ہزار 800 روپے فی 40 کلو کے نرخ پر فراہم کی جا رہی ہے فلور ملز حلقوں کا کہنا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں مہنگی گندم کی وجہ سے آٹے کی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے، اس لیے سرکاری گندم کی ریلیز بڑھانے اور درآمدی گندم کی بروقت آمد سے مارکیٹ پر دباو¿ کم کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنماو¿ں نے اس سے قبل بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر گندم کی دستیابی بہتر نہ ہوئی تو سال کے آخر میں آٹے کی قیمتوں اور رسد پر دباو¿ بڑھ سکتا ہے حکام کے مطابق درآمدی گندم کی حتمی قیمت ابھی سامنے نہیں آئی کیونکہ ٹی سی پی نے عالمی سپلائرز سے بولیاں طلب کی ہیں اور بولیاں 16 ستمبر کو کھولی جائیں گی۔ گندم کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں تک سی ایف آر بنیاد پر منگوائی جائیگی، اسلئے درآمدی گندم کی اصل لاگت کا تعین ٹینڈر مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا ماہرین کے مطابق اگر درآمدی گندم مقامی اوپن مارکیٹ سے کم لاگت پر دستیاب ہوئی اور اسے بروقت پنجاب پہنچایا گیا تو اس سے گندم کے نرخوں میں استحکام اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا دباو¿ کم ہوسکتا ہے۔ تاہم درآمدی گندم مہنگی پڑنے کی صورت میں بندرگاہ سے پنجاب تک فریٹ اور دیگر اخراجات شامل ہونے کے بعد اس کا آٹے کی قیمت پر فوری کمی کا اثر محدود رہنے کا امکان ہے وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ درآمد کا فیصلہ ملک میں گندم کی مسلسل دستیابی، طلب و رسد میں توازن اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلئے کیا گیا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پاسکو کو صوبوں کو منظور شدہ کوٹے کے مطابق فوری گندم فراہم کرنے اور صوبوں کو مختص گندم کی بروقت ادائیگی و اٹھان یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی ہے دوسری جانب وفاقی وزارت قومی غذائی تحفظ اس سے قبل ملک میں گندم کی قلت کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ قومی ذخائر موجود ہیں اور حکومت کا مقصد مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کی روک تھام ہے تاجر اور فلور ملز حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو درآمدی گندم کے ساتھ ساتھ پنجاب کے سرکاری و نجی ذخائر کے مکمل اور روزانہ بنیاد پر اعدادوشمار بھی جاری کرنے چاہئیں تاکہ مارکیٹ میں قیاس آرائی اور مصنوعی قلت کا خاتمہ ہوسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صوبے کے موجودہ ذخائر واقعی ضرورت کے مطابق کافی ہیں تو درآمدی گندم کی اصل ضرورت اور لاگت واضح کی جائے، جبکہ اگر آئندہ مہینوں میں کمی کا خدشہ ہے تو درآمدی گندم کی بروقت آمد یقینی بنائی جائے تاکہ دسمبر اور جنوری میں آٹے کی قیمتوں میں دوبارہ بڑا اضافہ نہ ہوذرائع کے مطابق اصل صورتحال کا فیصلہ نومبر میں درآمدی گندم کی آمد، مقامی منڈی میں گندم کے نرخ، پنجاب کے سرکاری و نجی ذخائر اور روزانہ ریلیز کے اعدادوشمار سے ہوگا۔ فی الحال پنجاب کو وفاقی درآمدی گندم میں سے 2 لاکھ 50 ہزار ٹن ملنا طے ہے جبکہ صوبائی حکام کے مطابق موجودہ ذخائر اور رواں سال کی ریکارڈ پیداوار کے باعث فوری قلت کا کوئی خطرہ نہیں۔