اسلام آباد: (بیورورپورٹ) چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے انصاف کی بروقت فراہمی ناگزیر، تمام ادارے ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کریں، عوامی اعتماد وراثت میں نہیں ملتا، دیانت داری سے حاصل ہوتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا نوجوان ججز بہترین انداز میں انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں، ضلعی عدالتیں نظام انصاف میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں،ضلعی عدالتوں ، ہائیکورٹ کے درمیان رابطہ کاری مزید مضبوط کرنا ہوگی، ضلعی عدالتیں انصاف کی فراہمی کیلئے درکار فہرست بھجوائیں،ملک بھر میں جامع نظام انصاف کیلئے عدلیہ کی ضروریات پوری کی جائیں گی، عدالتی ضابطہ اخلاق میں اصلاحات متعارف کرائیں، ایمانداری سے فرائض انجام دیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا عدالتوں کو سولر نظام پر منتقل کیا جا رہا ہے، عدلیہ کو بہترین انٹرنیٹ ،ای لائبریریز کی سہولت فراہم کی جائے گی،مجھے ماتحت عدلیہ پر فخر ہے، ملک بھر کے جوڈیشل افسروں کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت کا فیصلہ کیا گیا ، ججز کو بیرونی دباو آزاد کرنے کیلئے کوڈ آف کنڈیکٹ میں تبدیلی کی گئی، جج کو بیرونی دباﺅ سے آزاد کرنے کیلئے پوری عدلیہ ساتھ ہے،عوام کے اعتماد کیلئے ماتحت عدلیہ کے ججز کو با اختیار بنانا مقصد ہے۔
دریں اثناسپریم کورٹ میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے زیر اہتمام قومی عدالتی فلاح و بہبود کانفرنس ”اصلاحات سے اعتراف تک ایک موثر ضلعی عدلیہ کی تشکیل“ کا انعقاد کیا گیا،چیف جسٹس ، سپریم کورٹ ،وفاقی شرعی عدالت کے ججز، تمام صوبائی ہائی کورٹس اور گلگت بلتستان چیف کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سمیت ملک بھر، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی ضلعی عدلیہ کے نمایاں کارکردگی کے حامل ججز نے شرکت کی،نمایاں کارکردگی کے حامل جوڈیشل افسروں کو ”کمنڈیشن فار جوڈیشل ایکسیلنس“ ایوارڈ،بروقت، موثر اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی خدمات پر اعزازات دئیے گئے۔
بروقت انصاف ناگزیر، تمام ادارے ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کریں،چیف جسٹس

















