کرپشن، فرائض میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں: آئی جی جیل خانہ جات

لاہور (مرزا ندیم بیگ) حکومت پنجاب کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت محکمہ جیل خانہ جات پنجاب میں احتساب کا عمل تیز، کرپشن، بدعنوانی، اختیارات سے تجاوز اور فرائض میں غفلت کے الزامات و شکایات پر مختلف جیلوں کے 17 افسران و اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا جبکہ ڈسٹرکٹ جیل حافظ آباد کے ہیڈ کلرک کے خلاف بھی محکمانہ انکوائری شروع کر دی گئی۔ کارروائی کی زد میں جیلوں کے سپرنٹنڈنٹس سے لے کر ڈپٹی و اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس، سٹور کیپرز، ہیڈ وارڈر، وارڈرز اور جونیئر کمپیوٹر آپریٹر تک شامل ہیں۔آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال نے روزنامہ مشرق سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ جیل خانہ جات میں کرپشن، بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور فرائض میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام افسران و اہلکاروں کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق فرائض سرانجام دیں، خلاف ورزی کی صورت میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔محکمہ جیل خانہ جات کے مطابق مختلف جیلوں میں موصول ہونے والی شکایات اور سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے متعدد افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ ایکشن لیا گیا ہے۔ سنٹرل جیل گوجرانوالہ کے سپرنٹنڈنٹ اظہر جاوید اور سنٹرل جیل میانوالی کے سپرنٹنڈنٹ رسول بخش کلاچی کو بھی معطل کیا گیا ہے۔ سنٹرل جیل میانوالی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اسد طارق کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی گئی۔اسی طرح جیل راجن پور کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نیاز حسین، ڈسٹرکٹ جیل حافظ آباد کے سٹور کیپر زاہد رشید، ڈسٹرکٹ جیل ملتان کے سٹور کیپر خضر عباس اور ڈسٹرکٹ جیل راجن پور کے سٹور کیپر رضوان ساجد کو بھی معطل کر دیا گیا۔محکمانہ کارروائی کے تحت ڈسٹرکٹ جیل رحیم یار خان کے وارڈر محمد سجاد، سنٹرل جیل راولپنڈی کے وارڈر عمران مقبول، ڈسٹرکٹ جیل مظفرگڑھ کے وارڈر ایاز رسول، ڈسٹرکٹ جیل ملتان کے ہیڈ وارڈر سلیم مسیح اور وارڈر محمد محسن بھی معطل ہونے والوں میں شامل ہیں۔مزید برآں ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد کے وارڈرز عثمان نواز اور احمد حسن جبکہ ڈسٹرکٹ جیل راجن پور کے جونئیر کمپیوٹر آپریٹر محمد عبداللہ، وارڈر محمد شہزاد اور وارڈر فاروق احمد کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔دوسری جانب ڈسٹرکٹ جیل حافظ آباد کے ہیڈ کلرک محمد نصیر حسین کے خلاف محکمانہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ انکوائری کے دوران متعلقہ اہلکار کے خلاف سامنے آنے والی شکایات اور الزامات کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور قواعد و ضوابط کے مطابق ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق محکمہ جیل خانہ جات میں احتسابی عمل کا دائرہ مزید وسیع کئے جانے کا امکان ہے اور جیلوں کے انتظامی و مالی معاملات سمیت مختلف شعبوں میں سامنے آنے والی شکایات کو بھی زیرغور لایا جا رہا ہے۔ حکام کی جانب سے افسران اور اہلکاروں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ محکمہ میں کسی قسم کی کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔آئی جی جیل خانہ جات پنجاب نے کہا کہ جیل محکمہ میں شفافیت، احتساب اور نظم و ضبط اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میں ڈیوٹی انجام دینے والے افسران و اہلکار ریاستی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں، اس لئے ان سے قانون کی مکمل پاسداری اور فرائض کی دیانتداری سے ادائیگی کی توقع کی جاتی ہے،آئی جی نے واضح کیا کہ محکمہ جیل خانہ جات میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد جاری رہے گا، کسی افسر یا اہلکار کو عہدے یا اثرورسوخ کی بنیاد پر رعایت نہیں دی جائے گی، جبکہ شکایات اور بے ضابطگیوں پر قواعد کے مطابق کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔میاں سالک جلال کا کہنا تھا کہ جیلوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے ساتھ قیدیوں کی اصلاح، تربیت اور بحالی بھی محکمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ جیل انتظامیہ شفاف اور جوابدہ انداز میں کام کرے۔ کرپشن، بدعنوانی اور اختیارات سے تجاوز کے خلاف محکمانہ کارروائیاں آئندہ بھی بلاامتیاز جاری رہیں گی۔