لاہور ( رپورٹ:میاں ساجد/ تصاویر: میاں شاہنواز )وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے پٹرول ریلیف عوام کیلئے تکلیف کا باعث ہے، یہ عوامی سہولت نہیں، حکومت نے پاکستانی عوام کو پریشان کیا ہے، یہ سہولت عوام کیلئے اس وقت فائدہ مند ہوتی جب موٹر سائیکل کار اور چنگ چی رکشوں والوں کو یہ سہولت گھر بیٹھے میسر ملتی۔ پٹرول ریلیف والی ہیلپ لائن 9771 بھی عوامی دھوکہ، رابط کرنے والوں کے پیسوں کی کٹوتی، حکومت خزانہ بھرنے لگی۔ وزیر اعظم پاکستان کی خصوصی ریلیف سکیم عوام کیلئے وبال جان بن گئی۔ فائدہ کچھ بھی نہیں ہیلپ لائن 9771 عوامی پیسے میسج پر ہی ہڑپ کرنے لگی۔ موٹر سائیکل چنگ چی رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں والوں کیلئے 30 لیٹر ماہانہ ملنا ادھورا خواب ہے ، اگر کسی کی شہری کو یہ ریلیف مل بھی گیا اور حکومتی مسیج کے موصول ہونے کے بعد پٹرول پمپ والوں کی طرف سے ناروا سلوک ایک نئی پریشانی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان اگر سب عوام کیلئے پٹرول ویسے ہی سستا کرتے تو کمال بات تھی یہ پٹرول ریلیف عوام کیلئے میصبت کا سامان ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کی پٹرول ریلیف مہم سمجھ سے بالاتر، سڑک پر نکلیں تو وارڈن کی جانب سے 2000 ہزار کا چالان کہاں جائیں، حکومت عوام کیلئے اون لائن سسٹم ختم کرکے عام عوام کیلئے پٹرول ویسے سستا کرے۔ ان خیالات کا اظہار شہری قاسم الیاس، اذہان خان ، منیب الرحمن ، حسنین محمود، عبداللہ ، در شہسوار اور فاروق احمد کٹانہ کی روزنامہ مشرق میں گفتگو۔ شہریوں نے ملے جلے رد عمل کے ساتھ وزیر اعظم پٹرول ریلیف اسکیم پر کئی سوالات اٹھا دئیے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ، شہریوں کیلئے براہِ راست پٹرول سستا کرے۔ تاہم عملی طور پر رجسٹریشن، موبائل میسج، ٹوکن کے حصول اور پٹرول پمپ پر ریلیف استعمال کرنے کے طریقہ کار ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ یہ عام شہریوں کیلئے پٹرول ریلیف نہیں عوامی تکلیف ہے یہ ریلیف عام شہریوں کیلئے نیا امتحان ہے جس میں وہ زندگی بھر کامیاب نہیں ہو سکتے۔ پیچیدہ آن لائن اور موبائل نظام کے بجائے پٹرول کی قیمت ہی کم کی جائے تاکہ ہر شہری کو بلاامتیاز فوری ریلیف مل سکے۔حکومت کے سرکاری طریقہ کار کے مطابق وزیراعظم فیول ریلیف سکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی سمیت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو 100 روپے فی لیٹر ریلیف ملے گا تو پتہ چلے گا۔ ابھی تو ہوائیں میں باتیں ہیں تاہم عوام کو ماہانہ 20 لیٹر اور 800 سی سی گاڑیوں کیلئے 30 لیٹر ماہانہ تک ریلیف میسر ہوگا تو تب کی بات ہے۔ 9771 پر REG، شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا نمبر، صوبے کا پہلا حرف اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ۔ رجسٹریشن کے بعد پٹرول لینے سے قبل TOK لکھ کر 9771 پر بھیجنے سے فیول ٹوکن کا حصول در پیش مشکلات ہیںجس پر پٹرول پمپ عملہ کی طرف سے ناروا سلوک حکومت کا عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ شہریوں نے مشرق سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ جس طبقے کو فوری ریلیف کی ضرورت ہے، اس میں ہر شخص ڈیجیٹل طریقہ کار، ایس ایم ایس فارمیٹ، ٹوکن اور گاڑی کے ریکارڈ کی آن لائن تصدیق کے معاملات سے یکساں طور پر واقف نہیں۔ خصوصاً بزرگ شہری، کم تعلیم یافتہ افراد، دیہاڑی دار، رکشہ ڈرائیور اور ایسے موٹر سائیکل سوار جو موبائل یا گاڑی کے ریکارڈ سے متعلق معلومات مکمل طور پر نہیں رکھتے، ان کیلئے رجسٹریشن کروانا بہت مشکل ہے۔ جس سے بالکل متفق نہیںہیں۔ حکومت نے عوام کو ریلیف دینا ہے تو ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے شہری کو پہلے رجسٹریشن، پھر تصدیق، اس کے بعد ٹوکن اور آخر میں پٹرول پمپ پر مخصوص طریقہ کار سے نہ گزرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمت میں براہ راست کمی کا فائدہ ہر شہری کو فوری طور پر مل سکتا ہے، جبکہ ٹارگٹڈ سبسڈی میں ایسے افراد بھی رہ جانے کا خدشہ ہے جو کسی تکنیکی یا دستاویزی رکاوٹ کی وجہ سے رجسٹر نہیں ہو پاتے۔شہری قاسم الیاس نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ریلیف کا اعلان خوش آئند ہے لیکن اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب عام آدمی اسے حاصل کرنے کیلئے عملی طور پر کوشش کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر شہری کو ریلیف کیلئے بار بار موبائل پیغامات، رجسٹریشن اور ٹوکن کے مراحل سے گزرنا پڑے تو یہ عمل مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے۔اذہان خان نے کہا کہ موٹر سائیکل روزمرہ زندگی میں غریب اور متوسط طبقے کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ اثر ملازمت پیشہ اور روزانہ سفر کرنے والے افراد پر پڑتا ہے، اس لیے ریلیف کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے جس میں کسی شہری کو دفتروں یا پٹرول پمپوں کے چکر نہ لگانا پڑیں۔منیب الرحمن نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ سکیم کے بارے میں عوامی آگاہی کیلئے ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر واضح معلومات فراہم کرے تاکہ شہریوں کو معلوم ہو کہ کون اہل ہے، کتنے لیٹر پر ریلیف ملے گا، ٹوکن کتنے دن کیلئے قابل استعمال ہوگا اور پٹرول پمپ پر ریلیف حاصل کرنے کا درست طریقہ کیا ہے۔حسنین محمود کے مطابق عام آدمی کیلئے پٹرول کی قیمت میں براہ راست کمی زیادہ قابل فہم اور فوری ریلیف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں اگر کسی شہری کو رجسٹریشن یا ٹوکن کے مرحلے میں مسئلہ پیش آئے تو اس کیلئے فوری شکایت کے ازالے کا موثر نظام بھی ہونا چاہیے۔عبداللہ نے کہا کہ حکومت کو پٹرول پمپوں پر بھی واضح ہدایات جاری کرنی چاہئیں تاکہ ریلیف کے مستحق شہریوں کو ٹوکن پیش کرنے کے بعد غیر ضروری انتظار یا کسی اضافی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف اسی وقت محسوس ہوگا جب پمپ پر بھی نظام اسی رفتار سے کام کرے گا جس رفتار سے اس کا اعلان کیا گیا ہے۔در شہسوار نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کا مقصد شفافیت اور حقدار تک ریلیف پہنچانا ہے، تاہم اس کے ساتھ ایسے شہریوں کیلئے متبادل سہولت بھی ضروری ہے جو ڈیجیٹل نظام استعمال کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔فاروق احمد کٹانہ نے کہا کہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والے شہری پہلے ہی معاشی دباو کا شکار ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ریلیف سکیم کے ساتھ ساتھ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو مستقل بنیادوں پر کم کرنے کیلئے بھی اقدامات کرے۔شہریوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کی پٹرول ریلیف اسکیم عوام کے امتحان ہے جس سے بالکل اتفاق نہیں کرتے، کیونکہ اس میں عوامی ذلت اور پریشان بہت ہے۔
وزیراعظم پٹرول سکیم ریلیف کی بجائے عذاب ،شہریوں کی دہائی



















