دوبارہ حملہ ہونے پر جنگ بحر ہند سے آگے تک پھیلادینگے،ایران کی وارننگ


نیویارک،تہران: (بیورورپورٹ،مشرق نیوز)ایران نے ٹرمپ کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے دوبارہ حملہ ہونے پر جنگ بحر ہند سے آگے تک پھیلانے کی دھمکی دےدی۔

صدر مسعود پزشکیان نے کہا ایران کو تباہ کرنے کے امریکی صدر کے بیانات غیر ذمہ دارانہ ، تمام دباو کے باوجود عوام حکومت کےساتھ کھڑے ہیں،یواین سے خطاب کےلئے اپنی تقریر ایران سے طے کر کے آیا تھا، امریکی صدر کی تقریر سننے کے بعد کچھ تبدیلیاں کیں،موقف کو مزید سخت کیا،امریکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے،ایران کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔

مسعود پزشکیان نے کہا امریکہ ،اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے ذمہ دار ، ایران میں بھی رہبر اعلیٰ، کمانڈروں، سائنسدانوں، وزرا،شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، حملے امریکہ،اسرائیل کرتے ہیں ،دہشتگرد ایران کو قرار دے دیا جاتا ہے،اقوام متحدہ اجلاس میں ایرانی شرکت کا مقصد مذاکرات ،ایرانی عوام کے موقف کا دفاع کرنا ہے۔

سپریم لیڈر کے مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے کہا امریکہ یا اسرائیل نے دوبارہ حملہ کیا تو جنگ کا دائرہ بحر ہند ،آگے تک پھیلایا جا سکتا ہے،دوبارہ حملے کی صورت میں بدترین صورتحال سے نمٹنے کےلئے منصوبے تیار کر لیے،امریکہ نے نئی جنگ شروع کی تو بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب کے مرکز میں نیا محاذ کھل سکتا ہے۔

سیکرٹری ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ایران جنگ سے پہلے کے مذاکرات دور میں واپس نہیں جائے گا ،امریکہ کو پہلا قدم اٹھانا ہوگا،شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز کھلے گی نہ مذاکرات ہوں گے،شرائط تحریری طور پر پاکستان ،قطر کے پاس موجود ہیں،خطے کے ملک امریکی مہم جوئی کا حصہ نہ بنیں، ایرانی طیاروں کو آمدورفت کی اجازت نہ دی تو اپنے ہوائی اڈوں سے بھی پروازیں نہیں اڑ سکیں گی۔

جنرل محسن رضائی نے کہا جنرل اسمبلی میں ٹرمپ کا بیان جنگی جرائم کے ملزم ،شکست خوردہ جارح کے بھونڈے اور احمقانہ دفاع کے سوا کچھ نہیں ۔