لاہور(خبر نگار)میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کا ریگولیشن ونگ آئین، قانون اور سرکاری اصولوں سے انحراف کے باعث شدید انتظامی بحران کا شکار ہو چکا ہے جہاں مبینہ اقربا پروری اور خلاف ورزیوں کے باعث پورا انتظامی ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکاری قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے من پسند افراد کیلئے غیر قانونی عہدے تخلیق کئے گئے ہیں جس سے ادارے میں اختیارات کا عدم توازن پیدا ہو گیا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن نے 25 اگست کو متنازع احکامات نمبر 48 اور 49 جاری کئے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق ریگولیشن ونگ میں تمام زونل افسران ریگولیشن کی آسامیاں صوبائی لوکل گورنمنٹ سروس کیلئے باقاعدہ منظور شدہ اور مختص ہیں، جہاں پہلے ہی قانونی طور پر افسران تعینات ہیں۔ ان میں گلبرگ زون میں رانا شاہد، نشتر زون میں رانا اشرف، علامہ اقبال زون میں حنا فیاض اور عزیز بھٹی زون میں اشفاق احمد بطور زونل افسران ریگولیشن اپنی دفتری ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ تاہم نئے متنازع نظام کے باعث ان فعال اور قانونی افسران کو عملی طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہے۔ اس انتظامی معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کا باضابطہ نظام زونز پر مشتمل ہے اور یہاں تحصیلوں کا کوئی قانونی وجود نہیں ہے۔ علاوہ ازیں، حکومت سے منظور شدہ ایم سی ایل کے شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ میں ”انچارج آپریشن“یا ”انچارج مانیٹرنگ سیل“ جیسے عہدوں کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ اسکے باوجود قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے مقامی کیڈر کے 17ویں گریڈ کے افسر شہزاد رسول فاروق کو انچارج آپریشن ظاہر کر کے 5 تحصیلوں کا انتظام سونپ دیا گیا، جبکہ ان کی اہلیہ 17ویں گریڈ کی صوبائی سروس افسر سدرہ ظفر خان کو ”انچارج مانیٹرنگ سیل“ بنا کر مزید 2 تحصیلوں کا اضافی چارج دے دیا گیا۔ انکشاف ہوا ہے کہ سدرہ ظفر خان موجودہ میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن جواد الحسن گوندل کی بیچ میٹ ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسی تعارف کی بنیاد پر زونل افسران کے اختیارات کو محدود کر کے اس جوڑے کو 7 تحصیلوں کے اختیارات سپرد کئے گئے۔دوسری جانب مزکورہ آرڈرز چیف افسر کے حکم سے ایم او آر کے دستخط سے جاری ہوئے ہیں جو کہ معاملے کو مشکوک اور متنازعہ بنا رہے ہیں حالانکہ اس طرح کے کوئی بھی آرڈرز ایڈمنسٹریٹر کے حکم سے جاری ہونا بمطابق قانون ہے۔ دوسری جانب اس متوازی نظام کی وجہ سے میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کی شفافیت اور ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر سیکرٹری بلدیات پنجاب اور ایڈمنسٹریٹر کارپوریشن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مفادات کے ٹکراو¿ اور شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ کی خلاف ورزی کا فوری نوٹس لیں۔ نیز، میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن جواد الحسن گوندل سمیت ذمہ داران کے خلاف تحققیات کی جائیں، اصل ریکارڈ طلب کر کے دونوں متنازع احکامات منسوخ کیے جائیں اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔
میٹروپولیٹن کارپوریشن، بے ضابطگیوں کے باعث ریگولیشن ونگ انتظامی بحران کا شکار



















