کوہاٹ:(مشرق نیوز)وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے روٹ تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے لانگ مارچ کا قافلہ اب پشاورکی بجائے خیبر جائے گا،مطالبات کا ڈرافٹ سوشل میڈیا پر جاری کر دیا،ایک بھی نکتہ غیر آئینی ہوا تو لانگ مارچ منسوخ کر دوں گا۔
لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہاکوہاٹ کے غیرت مند لوگوں کا مشکور ،جوش و جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں، میرے جوانوں آپ کا وزیر اعلیٰ کسی سے نہیں ڈرتا اور میرے پختونخوا کے جوان بھی کسی سے نہیں ڈرتے، آپ سب کو معلوم ہے لانگ مارچ کرنے پر کیوں مجبور ہوئے؟ جب سے وزیر اعلیٰ بنا تب سے اب تک ہر دروازہ کھٹکھٹایا، جتنے جمہوری، آئینی و قانونی راستے تھے سب اپنائے، بار بار کہتا رہا آپ مجھے بتائیں میرے پاس کون سا راستہ بچتا ہے؟،جعلی وزیر اعظم سے فون پر کہا میری عمران خان سے ملاقات کرائیں شہبازشریف نے کہا پوچھ کر بتاتا ہوں پھر صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور ہوئی میری ملاقات ہونی چاہیے، چیف جسٹس کو کہا مگر ملاقات نہیں ہوئی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے میرا سلام لینا بھی گوارہ نہیں کیا ، سپریم کورٹ کے 3ججز حکم کرتے ہیں عمران خان کا شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کرایا جائے پر عمل نہیں ہوتا۔
وزیراعلیٰ کے پی نے کہاانصاف نہ ملے تو آئین اجازت دیتا ہے پرامن احتجاج کریں، عمران خان کا علاج، ملاقات غیر آئینی نہیں ،ججز کیوں ڈرتے ہیں؟ کیسز سنیں تو عمران خان ایک گھنٹے میں باہر ہوں گے، اسمبلیاں، ادارے آپ کے ٹیکس کے پیسے سے چلتے ہیں تو راج بھی عوام کا چلنا ہوگا ،عدالتیں انصاف نہیں کریں گی تو عوام سڑکوں پر انصاف کریں گے،پورا صوبہ اور ملک نکلے گا تو کسی کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی، پختونوں کے سر کا سودا پہلے قبول تھا نہ اب اور نہ کبھی ہوگا،کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں،میں پالیسی دیتا ہوں، 100 دن میں امن قائم ہو سکتا ہے،عمران خان کی صحت کےساتھ کھیلا جا رہا ہے اگر کوئی نقصان پہنچا تو جیل انتظامیہ، وزیراعظم و دیگر متعلقہ ذمہ دار براہ راست ذمہ دار ہوں گے۔
مارچ کاروٹ تبدیل،صوبے کی پالیسی مان لو قائم ہوجائےگا، وزیراعلیٰ کے پی



















