گرفتار سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کے معاملہ پر اہم انکشافات

لاہور (مرزا ندیم بیگ) آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال کی رہائش گاہ سے اینٹی کرپشن کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل عمران نوید اشرف کے معاملے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل پہلے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال سے ملاقات کے بعد اپنی رہائش گاہ واپس چلا گیا تاہم کچھ ہی دیر بعد دوبارہ آئی جی کی رہائش گاہ پر پہنچ گیا۔ آئی جی کے مطابق مذکورہ افسر نے گیسٹ روم میں ملاقات کی اور اس دوران ٹیبل پر ایک لفافہ موجود پایا گیا جس میں مبینہ طور پر دو لاکھ روپے تھے۔ حالات مشکوک محسوس ہونے پر آئی جی نے فوری طور پر اپنے ملازمین کو طلب کیا اور معاملہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے نوٹس میں لانے کے ساتھ ساتھ ڈی جی اینٹی کرپشن کو بھی آگاہ کیا جس کے بعد اینٹی کرپشن کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو گرفتار کر لیا۔تاہم سب سے اہم سوال یہ ہے کہ سپرنٹنڈنٹ عمران نوید اشرف پہلی ملاقات کے بعد دوبارہ آئی جی جیل کے گھر کیوں واپس آیا اور گیسٹ روم کی میز پر دو لاکھ روپے والا لفافہ رکھنے کا اصل مقصد کیا تھا؟ آیا یہ رقم کسی کام کے عوض مبینہ طور پر پیش کی گئی، کسی سابقہ معاملے سے متعلق تھی یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ کارفرما تھی؟ اس بارے میں تاحال حتمی حقائق سامنے نہیں آ سکے اور اصل مقصد اینٹی کرپشن کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہونے کا امکان ہے۔دوسری جانب ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار ہونے والا سپرنٹنڈنٹ جیل عمران نوید اشرف ریگولر سپرنٹنڈنٹ نہیں تھا بلکہ او پی ایس کی بنیاد پر مختلف اہم جیلوں میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر تعینات رہا۔ ذرائع کے مطابق سیاسی اثر و رسوخ کے باعث مذکورہ افسر کو گزشتہ چند برسوں کے دوران مسلسل مختلف اہم جیلوں میں سپرنٹنڈنٹ کی ذمہ داریاں سونپی جاتی رہیں۔ذرائع کے مطابق عمران نوید اشرف کو 29 اکتوبر 2022ءکو ڈسٹرکٹ جیل چکوال میں سپرنٹنڈنٹ جیل تعینات کیا گیا، جس کے بعد 2023ءمیں سنٹرل جیل ساہیوال، پھر ڈسٹرکٹ جیل راجن پور، 2024ءمیں ڈسٹرکٹ جیل وہاڑی اور بعد ازاں 2026ءمیں ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں سپرنٹنڈنٹ کی اہم ذمہ داری سونپی گئی۔یوں مذکورہ افسر مسلسل پانچ مختلف جیلوں میں سپرنٹنڈنٹ کے اہم عہدے پر فرائض انجام دیتا رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ جیل خانہ جات میں کسی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو او پی ایس کے ذریعے سپرنٹنڈنٹ جیل جیسے اہم عہدے پر تعینات کیا جانا معمول کا معاملہ نہیں سمجھا جاتا اور اس نوعیت کی تعیناتی کیلئے عموماً اعلیٰ سطح کی سفارش اور اثر و رسوخ کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تاہم ان تعیناتیوں میں سیاسی اثر و رسوخ کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ،آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال نے واقعہ کے حوالے سے بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل عمران نوید اشرف رات کو پہلے ان سے ملاقات کیلئے آیا تھا۔ ملاقات کے دوران اس نے اپنی نوکری اور جیل میں درپیش بعض مسائل کے حوالے سے گفتگو کی اور اس کے بعد چلا گیا۔آئی جی کے مطابق بعد ازاں مذکورہ سپرنٹنڈنٹ دوبارہ ان کی رہائش گاہ پر آیا اور کسی ضروری بات کا ذکر کیا، جس پر اسے گھر کے گیسٹ روم میں بٹھایا گیا۔ میاں سالک جلال کا کہنا تھا کہ وہ اس کا آئی جی اور افسر تھا، اگر کسی ماتحت افسر کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اس کی بات سننا اور میرٹ پر فیصلہ کرنا ان کی ذمہ داری ہے، تاہم اس مرتبہ معاملہ کچھ اور ہی نکلا۔میاں سالک جلال کے مطابق جب سپرنٹنڈنٹ گیسٹ روم میں موجود تھا تو وہ ٹیبل کے قریب کھڑا تھا جبکہ ٹیبل پر ایک لفافہ پڑا ہوا تھا۔ حالات مشکوک محسوس ہونے پر انہوں نے فوری طور پر اپنے ملازمین کو طلب کیا اور معاملے سے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ڈی جی اینٹی کرپشن کو بھی اطلاع دی۔آئی جی جیل کے مطابق اینٹی کرپشن کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر سپرنٹنڈنٹ کو گرفتار کیا اور لفافے کی تلاشی کے دوران اس میں سے دو لاکھ روپے برآمد ہوئے۔میاں سالک جلال کا کہنا تھا کہ محکمہ جیل خانہ جات میں آنے کے بعد سے اب تک انہوں نے نہ خود کرپشن کی ہے اور نہ کسی کو کرپشن کرنے دی ہے۔ انہوں نے اپنی ذمہ داری ہمیشہ فرض سمجھ کر ادا کی ہے اور محکمہ کے افسران و اہلکاروں کو بھی یہی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیں۔آئی جی جیل کے مطابق جو افسر یا اہلکار اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرے گا وہ قابل احترام ہے اور اسے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، تاہم ڈیوٹی میں کوتاہی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا بدعنوانی میں ملوث افراد کیلئے کسی قسم کی رعایت نہیں ہوگی۔آئی جی نے کہا کہ ماضی میں بھی کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور آئندہ بھی ایسا نہیں ہوگا۔ خاص طور پر اٹک جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے خلاف ہونے والی کارروائی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے ان عناصر کو بھی واضح پیغام مل گیا ہے جو کسی قسم کی غلط سوچ رکھتے ہیں۔سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کی گرفتاری کے بعد اب اصل توجہ اینٹی کرپشن کی تفتیش پر مرکوز ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ عمران نوید اشرف دوبارہ آئی جی کی رہائش گاہ پر کس مقصد سے آیا، دو لاکھ روپے کس مقصد کیلئے لائے گئے تھے، رقم کس کو اور کیوں دی جانی تھی اور آیا رقم کسی سرکاری کام، تعیناتی، سہولت یا کسی اور معاملے کے عوض مبینہ طور پر پیش کی گئی تھی یا نہیں۔اسی طرح یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر مذکورہ افسر او پی ایس پر مسلسل مختلف اہم جیلوں میں سپرنٹنڈنٹ تعینات ہوتا رہا تو اس کی تعیناتیوں کی منظوری کس سطح پر ہوتی رہی اور محکمہ کے مروجہ قواعد کے تحت ان تعیناتیوں کی قانونی و انتظامی حیثیت کیا تھی۔اینٹی کرپشن کی جانب سے گرفتار افسر سے تفتیش کے بعد ہی ان سوالات کے جوابات سامنے آنے کی توقع ہے۔ فی الوقت دو لاکھ روپے کی برآمدگی، دوبارہ آئی جی کی رہائش گاہ پر آنے کی وجہ اور رقم لانے کا اصل مقصد تفتیش طلب معاملہ ہے، جس کے حتمی حقائق متعلقہ تحقیقاتی ادارے کی تفتیش اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکیں گے۔