مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو کے پی میں گورنر راج لگے گا،بلاول بھٹو

کراچی: (بیورورپورٹ) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے پی ٹی آئی انتہاپسندی کی سیاست ترک کرے،وزیراعلیٰ کے پی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو گورنر راج لگے گا۔

کراچی میں کے ایم سی سپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہاپیپلزپارٹی نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں قلم دیکھنا چاہتی ہے، بعض سیاسی جماعتیں نفرت و تقسیم کی سیاست کررہی ہیں،پی ٹی آئی کے وفاقی ، صوبائی حکومتوں و دیگر سیاسی جماعتوں سمیت مختلف فریقوں کےساتھ تنازعات سے نقصان ملک کو ہورہا ہے،پی ٹی آئی اپنا کھویا سیاسی مقام واپس حاصل کرنا چاہتی ہے تو انتہاپسندی کی سیاست چھوڑ کر دوسری سیاسی جماعتوں سے رابطے کرنے ،پارلیمان میں واپس آنے کی ضرورت ہے، سیاسی انتہاپسندی کے باعث پی ٹی آئی کے کارکن بھی مایوسی کا شکار ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا انتہاپسندی کی سیاست جاری رہی تو بانی پی ٹی آئی جیل میں صدر زرداری کے 14 سالہ دور اسیری کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی سے مخلص ہیں تو انتہاپسندی کی سیاست ترک ،صوبے میں اپنی حکومت بچانے کےلئے مثبت سیاسی رویہ اختیار کریں،گورنر راج آئینی و قانونی آپشن تاہم آخری چارے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، پیپلزپارٹی کا واضح موقف ہے گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے اقدامات معمول کی سیاسی حکمت عملی نہیں بلکہ غیر معمولی حالات میں استعمال ہونےوالے اختیارات ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاپیپلزپارٹی نہیں چاہتی ایمرجنسی یا گورنر راج کا آپشن استعمال کرنا پڑے، وزیراعلیٰ کے روئیے سے حالات بن سکتے ہیں،بتائیںمذاکرات کو ناکام کیوں بنایا گیا؟،فضل الرحمن کاکردار کو خوش آئند ہے،سیاسی مسائل کا حل بات چیت اور جمہوری عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے،نئے صوبوں کافیصلہ عوام کریں گے،زبردستی قائل نہیں کیا جاسکتا،جنوبی پنجاب ،گلگت کو صوبہ بنانے کی تجویز پر پیپلزپارٹی تعاون کرے گی۔