اسلام آباد:(بیورورپورٹ)پارلیمنٹ نے کے پی میں ایمرجنسی کی توثیق کردی،قومی اسمبلی،سینٹ میں قرارداد کثرت رائے سے منظور،اپوزیشن کاشدید احتجاج،واک آﺅٹ، علامہ راجہ ناصر عباس نے ڈائس کے سامنے قرارداد کی کاپی پھاڑ دی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا،خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کےلئے قرارداد وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے پیش کی، اپوزیشن نے ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کی اور نعرے لگائے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہاحکومت نے آئین میں موجود اختیارات ،متعلقہ قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایمرجنسی کا فیصلہ کیا،اندرونی خلفشار، سرحد پار سے دراندازی ،صوبائی حکومت کے اقدامات قومی سلامتی کےلئے خطرہ تھے،خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات، امن و امان کی خراب صورت حال ، سرحد پار سے دراندازی کے پیش نظر ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا،گورنر خیبر پختونخوا طویل عرصے سے صوبے کے متعدد اضلاع میں دہشتگردی کی سنگین صورتحال ،انسداد دہشتگردی کی بجائے سیاسی سرگرمیوں پر توجہ دینے کی شکایت کر رہے تھے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے صوبے میں امن و امان کی سنگین صورتحال کے باوجود سیاسی سرگرمیوں ،دوسرے شہروں کے دوروں کو ترجیح دی ،دہشتگردی کےخلاف جنگ میں وفاقی ،صوبائی حکومتوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر سکیورٹی فورسز کا ساتھ دینا چاہیے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے دہشتگردی کےخلاف صوبائی حکومت کے بیانیے کو ایمرجنسی کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا مذاکرات میں ڈرافٹ سائن ہوا لیکن ویٹو پاور روپوش شخص کے پاس تھی، ایک شخص افغانستان میں بیٹھ کر کے پی حکومت چلارہا ہو تو پھر اس طرح تو ہوتا ہے،کہتے ہیں بانی سے ملاقات نہیں ہوتی، ملاقاتیں ہوتی ہیں پبلک نہیں کیا جاتا،فیض حمید ،قمر باجوہ بیٹھے ہوتے تھے، قائل کرنے کی کوشش کی گئی دہشتگردوں کو واپس لایا جائے تو فائدہ ہوگا ،نواز ،شہباز کی رہائی کو کبھی ایشو نہیں بنایا، مسئلہ صرف دہشت گردی کا ہے، وزیر اعلیٰ کو سیاست کی فکر تھی، لیز پر آنے والا وزیر اعلیٰ اپنی لیز کنفرم کرانا چاہتا تھا۔
بعدازاں سینٹ اجلاس میں بھی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد پیش کی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا اگر اپوزیشن بغیر بحث کے ووٹنگ کرانا چاہتی ہے تو تیار ہیں ، اگر گھر میں کھانا ٹھنڈا ہورہا ہے تو اپوزیشن ووٹ کرکے چلی جائے،اپوزیشن اراکین نے احتجاج ،شور شرابہ کیا۔
وزیرقانون نے کہا ایمرجنسی کی منظوری کےلئے پیش کی گئی قرارداد آئینی تقاضا ہے، اپوزیشن ایمرجنسی کو نامنظور کرنے کی قرارداد نہیں لا سکتی البتہ اپنے ووٹوں سے قرارداد مسترد کرسکتی ہے تو کردے، چیئرمین سینٹ نے قرارداد منظوری کےلئے پیش کی تواپوزیشن اراکین شور شرابہ کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے ،ایوان نے قرارداد کی متفقہ منظوری دےدی،پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جمعرات کو آرٹیکل 234کے تحت گورنر راج کی منظوری لی جائے گی۔
قومی اسمبلی،سینٹ نے کے پی میں ایمرجنسی کی توثیق کردی،اپوزیشن کااحتجاج،واک آﺅٹ


















