لاہور (قمر عباس نقوی )ڈی جی ایم پاکستان ریلویز کی پر اسرار خاموشی، ہیڈ کواٹرز ڈویژن میںامتیازی سلوک، ملک بھر کی ڈویژنز میں پالیسی ان ویلی ڈیشن کے تحت تعینات ملازمین کو رہائشی کوارٹرز کی الاٹمنٹ جاری جبکہ ہیڈ کوارٹر ڈویژن میں 2024سے پابندی عائد متاثرہ ملازمین میں شدید مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں۔ پاکستان ریلویز میں ملک بھر کی تمام ڈویژنز میں پالیسی ان ویلی ڈیشن (میڈیکل بنیاد) کے تحت ملازمین کے بچوں کو سکیل 1سے سکیل 10تک بھرتی کی گئی جبکہ پرائم منسٹر کوٹہ کے تحت (سترہ اے )کی تحت ملازمین کے بچوں یا بیوہ کو سکیل 1سے سکیل 16میں بھرتی کیا گیا جن کو الاٹمنٹ کی جاری ہے جبکہ ملک بھر کی تمام ڈویژنز میں پالیسی ان ویلی ڈیشن کے ملازمین کو بھی سرکاری الاٹمنٹ کی جا رہی ہے جبکہ ریلویز ہیڈ کواٹر ڈویژن میں مبینہ طور پر ایکسین برانچ ہیڈ کلرک کی جانب سے ایکسین ہیڈ کواٹر ڈویژن کو گمراہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے ہیڈ کواٹر ڈویژن میں الاٹمنٹ پر پابندی عائد کر رکھی ہے پاکستان ریلوے ہیڈکوارٹر لاہور نے 3 ستمبر 2024کو وزارت ریلوے کو ارسال کیے گئے مراسلے میں واضح کیا تھا کہ 38ویں سینئر مینجمنٹ کمیٹی کے اجلاس میں سفارش کی گئی ہے کہ وزیراعظم اسسٹنس پیکیج کے تحت بھرتی ہونے والے ملازمین کی طرح پالیسی ان ویلی ڈیشن کے تحت تعینات ملازمین کو بھی ریلوے رہائشی کوارٹرز کی سہولت دی جائے تاہم سفارش سامنے آنے کے کئی ماہ بعد بھی نہ کوئی پالیسی منظور کی گئی اور نہ ہی کوئی نوٹیفکیشن جاری کیا جا سکا سال 2021میں منسٹری آف ہاﺅسنگ سے تجویز لی گئی جس کی بنیاد پر الاٹمنٹ پر عائد پابندی کا خاتمہ بھی کر دیا گیا جس پر تمام ڈویژنز اور سربراہان کو تحریری لیٹر بھی جاری کیا گیا تھا لیکن 2024میں ہیڈ کواٹرز ڈویژن کی جانب سے اس پر دوبارہ پابندی عائد کر رکھی ہے جس پر متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر کمیٹی اس مطالبے کو اصولی طور پر درست قرار دے چکی ہے تو پھر آخر کس بنیاد پر اس فیصلے کو مسلسل لٹکایا جا رہا ہے ان کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ متعلقہ حکام فائلوں کو ایک میز سے دوسری میز تک منتقل کرنے کے سوا کوئی عملی قدم اٹھانے کو تیار نہیں ملازمین کے مطابق انہیں وفاقی حکومت کی منظور شدہ پالیسی ان ویلی ڈیشن کے تحت ملازمت دی گئی، لیکن رہائشی سہولت کے معاملے میں دوسرے درجے کا ملازم سمجھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ہی ادارے میں یکساں فرائض انجام دینے والے ملازمین کے ساتھ مختلف سلوک نہ صرف امتیازی رویہ ہے بلکہ مساوی حقوق کے اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے متاثرہ ملازمین نے وفاقی وزیرِ ریلوے، سیکرٹری ریلوے اور چیف پرسنل آفیسر سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر SMC کی سفارشات پر بھی عملدرآمد نہیں ہونا تو پھر ایسی کمیٹیوں کے قیام کا مقصد کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ وعدوں، اجلاسوں اور فائلوں سے آگے بڑھتے ہوئے فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے تاکہ برسوں سے اپنے جائز حق کے منتظر ملازمین کو مزید ذہنی اذیت اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے ملازمین کا کہنا ہے کہ وزارتِ ریلوے کی مسلسل خاموشی اور غیر ضروری تاخیر نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ پالیسی ان ویلی ڈیشن کے تحت تعینات ملازمین کے جائز مطالبات کو دانستہ نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس امتیازی رویے کا فوری خاتمہ کرتے ہوئے انہیں بھی دیگر ملازمین کی طرح رہائشی کوارٹرز کی الاٹمنٹ کا حق بلا تاخیر فراہم کیا جائے۔ ایکسین ہیڈ کواٹرز کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے پالیسی کے تحت کا م کیا جا رہا ہے اس پر منسٹری کو مراسلہ بھی لکھا گیا ہے جیسے ہی کوئی فیصلہ ہو گا اس کی روشنی میں کام کا آغاز کیا جائیگا۔
ریلوے ہیڈکوارٹر ڈویژن میں ملازمین کیساتھ امتیازی سلوک ، ڈی جی ایم کی پراسرار خاموشی


















