کیا پنجاب حکومت خواتین کے حقوق کےخلاف قانون کی پیروی کرنا چاہتی ہے؟،سپریم کورٹ


اسلام آباد:(بیورورپورٹ)عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دئیے پنجاب میں خاتون وزیراعلیٰ ، کیا صوبائی حکومت خواتین کے حقوق کےخلاف قانون کی پیروی کرنا چاہتی ہے؟۔

سپریم کورٹ شریعت ایپلٹ بنچ میں خاتون کو خلع پر 50 فیصد حق مہر واپس کرنے کو کالعدم کرنے کےخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،عدالت نے معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں لانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کیس کو چلانا ہے یا نہیں، معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے سامنے رکھا جائے۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا خاتون کے خلع لینے پر 50 فیصد واپسی کا قانون صرف پنجاب نے بنایا، پنجاب میں خاتون وزیراعلیٰ ہیں، کیا پنجاب حکومت خواتین کے حقوق کےخلاف قانون کی پیروی کرنا چاہتی ہے؟،حکومت قانون سازی کرکے عورت کے فیصلے کا اختیار کیسے طے کر سکتی ہے؟ عورت کے مقام کو کم کرنے پر عدالت کمپرومائز نہیں کرے گی، عورت کو دیا گیا حق مہر ملکیت ہوتی ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا پنجاب حکومت کو کیس واپس لے لینا چاہیے، خلع پر کیا دینا ،کتنا دینا عورت کا فیصلہ ہے، عورت کو ملنے والا اختیارحکومت کیسے چھین سکتی ہے؟ کیا حق مہر کو شرط کےساتھ مشروط کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس ملک شہزاد نے سوال اٹھایا جس کام سے منع نہیں کیا گیا وہ غیر اسلامی کیسے ہوسکتا ہے؟، عدالت نے مزید سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کردی۔