کراچی:(بیورورپورٹ)ایم کیو ایم پاکستان نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے عوامی ریفرنڈم کی تجویز دےدی۔
گریجویٹ فورم پاکستان کے زیر اہتمام قومی مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہاموجودہ چاروں صوبوں پر چند خاندانوں کا راج ،سٹیٹس کو برقرار ہے، تسلیم کرنا ہوگا معاشی، سیاسی ،شراکتی طور پر خودمختار نہیں ، 18ویں ترمیم کے بعد خودمختار صوبوں سے بہتری کی توقع تھی تاہم ایسا نہ ہوسکا،ایم کیو ایم پاکستان نے آئینی ترمیمی بل جمع کرا دیا ،بلدیاتی اداروں کے اختیارات تفصیل سے طے کیے جائیں گے، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا دور ،دنیا بہت آگے جا چکی ۔
فاروق ستار نے تجویز دی سندھ کے ڈویژنز کو شمالی، وسطی، جنوبی، مغربی ،مشرقی سندھ میں تقسیم ،کراچی کو خصوصی سندھ کا درجہ دیا جائے،سندھ کے شہروں ،دیہات کو براہ راست اختیارات اور وسائل ملنے چاہئیں،کسی سیاسی جماعت کے منشور میں صوبوں ،نئے انتظامی یونٹس کا واضح ذکر نہیں،آرٹیکل 48 کی شق 6 کے تحت عوام کی رائے معلوم کی جائے، عوامی ریفرنڈم کرایا جائے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا ہجرت کر کے قائد اعظم کے پاکستان میں آئے تھے ،بھٹو کے پاکستان میں دھکیلا گیا،دھرتی ماں صرف پاکستان ہے، صوبے صرف اور صرف انتظامی یونٹس ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں ،سندھ کے شہری علاقوں کا سب سے زیادہ استحصال ہوا ، اے پی ایم ایس او کے منشور میں صوبے کا ذکر تھا اور اب پورے ملک کی آواز ہے، ایم کیو ایم کا پہلا مطالبہ ہے پورے ملک میں آبادی کے لحاظ سے صوبے بننے چاہئیں،آپ صوبہ دے دیں آرٹیکل 140 اے خود نافذ کرلیں گے، سندھ اسمبلی میں سندھو دیش کے خلاف قرارداد نہیں لانے دی گئی۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا نئے صوبوں کی بجائے بااختیار انتظامی یونٹس بنائے جائیں،مقامی حکومتوں کا آپشن بہت اچھا ہے مگر موجودہ نظام کے ہوتے ہوئے ممکن ہی نہیں ،فی الحال اجارہ داریاں قائم ، صرف 800 لوگ پورے ملک کا نظام دیکھ رہے ہیں، آپ ایڈمنسٹریٹو یونٹ بنائیں، کراچی والے کراچی کو چلائیں، لاڑکانہ والے لاڑکانہ کو چلائیں، لاہور والے لاہور اور پشاور و کوئٹہ کے مقامی لوگ وہاں کا انتظام چلائیں۔
ایم کیو ایم پاکستان نے نئے صوبوں پرعوامی ریفرنڈم کی تجویز دےدی

















