عمران خان نے خود پمز سے علاج کرانے کی خواہش کااظہار کیا،وزیر قانون

اسلام آباد:(بیورورپورٹ)وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے عمران نے خود پمز سے علاج کرانے کی خواہش کااظہار کیا،آنکھ کا پروسیجر اڈیالہ جیل ہسپتال میں بھی ہو سکتا تھا۔

سینٹ اجلاس میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا بانی پی ٹی آئی نے خود کہا اگر امن وامان کی صودتحال کا مسئلہ تو ہے شام کو لے جائیں، پمز کے ای ڈی نے باتیں پریس کانفرنس میں کی ہوئی ہیں،دوبارہ بھی کوئی مسئلہ آیا تو سہولیات دی جائیں گی، بانی پی ٹی آئی نے خود کہا مجھے انجکشن پمز سے لگوایا جائے،مزید کوئی پیچیدگی نہیں،بلاشبہ آئین ہر شخص کو حقوق دیتا ، حقوق کا اطلاق بھی آئینی طریقہ ہے،قیدی کو سہولیات نہ ملنے کا معاملہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ سے پوچھا جا سکتا ہے۔

وزیر قانون نے کہا میرے وزیراعظم نے تو کبھی نہیں کہا طبی سہولیات نہ دی جائیں، انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔

قبل ازیںاپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا بانی پی ٹی آئی ملک کے مقبول لیڈر ، 14 مہینوں سے ذاتی معالج سے چیک اپ نہیں کرایا گیا، معالج سے چیک کرانا اور خاندان کو صحت سے مطلع رکھنا آئینی ذمہ داری ہے،عمران خان کی بیماری کا فیملی کو نہ بتاناجرم ، بطور شہری اور قیدی حقوق سے کیوں محروم کیا گیا؟،آنکھ ضائع ہو سکتی ہے، آپ مرضی کے ڈاکٹر سے چیک کرائیں،کیوں لاپرواہی کر رہے ہیں،نہیں کہتے ملک سے باہر بھیجا جائے۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا انسانی حقوق کا معاملہ ،آنکھ مستقل بند ہو سکتی ہے، بنیادی انسانی حقوق کے ناطے اپیل کرتا ہوں ذاتی ڈاکٹرز کو ملنے دیا جائے،چیئرمین سینٹ پمز ہسپتال سے رپورٹ طلب کرکے سامنے رکھیں۔