اسلام آباد:(بیورورپورٹ)وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا ہے ترلائی دھماکے کا خودکش بمبار پشاور کا رہائشی تھا ،بھارت نے افغانستان میں تربیت دی،قومی اسمبلی اجلاس میں ترلائی دھماکے میں جاں بحق افراد کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔
وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا خودکش حملہ آور نے پہلے گارڈ پر فائرنگ کی پھراندر داخل ہوکرخود کو اڑا لیا،جاں بحق ہونےوالوں میں زیادہ تر نوجوان ہیں،حملہ آور یاسرخان کی شناخت کرلی ،نوشہرہ میں سی ٹی ڈی نے 4دہشتگرد گرفتار کیے،انٹیلی جنس اداروں کی وجہ سے کئی ایسے واقعات روکے گئے۔
دوسری جانب سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا نائن الیون میں ملوث عناصر کا آج تک پتہ نہیں چل سکا، افغان، پشتون یا ہزارہ ملوث نہیں،واقعہ کے بعد کرائے کی جنگیں لڑیں پھر استعمال کر کے پھینک دیا گیا،اپوزیشن لیڈر اور راجہ پرویز اشرف کی باتوں سے کوئی زیادہ اختلاف نہیں ، ایک دور میں پاکستان ، افغانستان کے درمیان کوئی ویزہ نہیں ہوتا تھا،اجازت نامے پر جاتے رہے،امریکیوں نے چھوڑ دیا لیکن عقل نہیں آئی۔
خواجہ آصف نے کہانائن الیون افغانستان نے نہیں کرایا مگر کرائے کی جنگ لڑتے رہے، ایک شخص نے خوشنودی کےلئے ملک کو امریکہ کی فرنٹ لائن سٹیٹ بنایا،ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرنے تک آگے نہیں بڑھ سکتے،ملک میں 78 سال سے بہت واقعات ہوئے، غلطیوں کا ازالہ کرنا ہوگا،2،3سال میں دہشتگردی کے واقعات بڑھے ،دہشتگردی کی مذمت کرنے کےلئے بھی متحد نہیں،اپنے سپانسر باہر جا کر نہ ڈھونڈیں، کفالت کےلئے کبھی واشنگٹن، کبھی ماسکو چلے جاتے ہیں۔
ترلائی دھماکے میں بھارت ملوث،بمبار کو افغانستان میں تربیت دی، وفاقی وزرا



















