کورم کی نشاندہی نظرانداز ،متعدد بل پاس،قومی اسمبلی کاپاک فوج سے اظہار یکجہتی

اسلام آباد: (بیورورپورٹ)کورم کی نشاندہی نظرانداز ،متعدد بل پاس ،قومی اسمبلی کا پاک فوج سے اظہار یکجہتی ،شہدا کو خراج عقیدت ،قرارداد منظور کرلی۔

سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہاں لکھا ہے بار بار کورم کی نشاندہی کی جائے گی،قانون سازی جاری رکھی جائے،منظور ہونے والے بلوں میں پاکستانی شہریت ،بھنگ کے انتظام و ریگولیٹری اتھارٹی،پاکستان کے نام ونشانات کے غلط استعمال کی روک تھام،نیشنل آرکائیوز ،نیا پاکستان ہاوسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی ،اسلام آباد بزرگ شہری (ترمیمی) بل ودیگر شامل ہیں۔

علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں مسلح افواج سے اظہار یکجہتی اورشہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد منظور کرلی گئی،وزیر دفاع خواجہ آصف کی پیش کی گئی قرارداد میں کہاگیاایوان دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے،شہداکی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،قوم دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج کےساتھ شانہ بشانہ کھڑی ،افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں،بہادری ،قربانیوں کو سراہتا ہے،ملکی سلامتی،استحکام اور امن کیلئے فوج کی کاوشوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

دریں اثنا وزیر دفاع خواجہ آصف نے محمود اچکزئی کے پاک فوج پر بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا اپوزیشن لیڈر کے بیان سے تکلیف ہوئی ،غیر ذمہ دارانہ بیان عہدے کی تذلیل،محمود اچکزئی نظریات رکھیں ، اٹیک نہ کریں، دہشتگردی کےخلاف جنگ میں روزانہ نقصان اٹھا رہے ہیں،شہیدوں نے پارٹیاں نہیں بدلیں، پاک آرمی کسی صوبے یا ضلع کی فوج نہیں اگر میں خون سے کھینچی ہوئی لکیر کراس کرتا ہوں تو ایوان میں بیٹھنے کا حق نہیں۔

خواجہ آصف نے کہا افغانستان کو پانچواں صوبہ کہنا خام خیالی ہے،افغانستان کےساتھ امن سے رہنا چاہتے ہیں ،دہشتگردی کےخلاف ہر صوبے نے خون دیا،آئین و اصولوں پر کوئی اختلاف نہیں ،خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے،اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے کہا کبھی جذباتی باتیں نہیں کیں، آئین کے دائرے میں رہنے والی فوج کو سلام ،اپنے الفاظ پر قائم ہوں،90 کی دہائی سے اسمبلی میں آ رہا ہوں، فوج میں کس صوبے کا کتنا حصہ ہے؟ انگریزوں کےخلاف سب سے زیادہ قربانیاں دیں، ملک کا باسی ہوں، جمہوریت کے مخالفین کےخلاف بولوں گا۔

اچکزئی نے کہا آپ نے پشتونوں کی اقتصادی خودکشی کرا دی، کیا پارلیمنٹ مارشل لاز کو جائز قرار دینے کے لیے ہے؟ پاکستان ہمارا ملک ہے، آبادی کے حساب سے اپنا حصہ چاہیے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا چاہیے تھا دہشتگردی کےخلاف ایک پیغام دیتے، خواجہ آصف نے برادران یوسف کا کردار ادا کیا،آپ فوج کو سیاست میں کیوں گھسیٹ رہے ہیں،دہشتگرد جہاں بھی ہیں دشمن، گھروں پر قبضہ ہوا اور ہم غدار ہیں؟،فوج کےخلاف بات کرنے والے آپ ہیں ، غیر ملکی نشریاتی ادارے کو فوج کےخلاف پہلا انٹرویو آپ نے دیا، عدلیہ پر حملہ کرنےوالے آپ ہیں ،کلبھوشن کےخلاف کوئی بیان نہیں دیا،عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس میں بھارت نے آپ کے موقف کو اپنایا،فوج کے کندھے پر بیٹھ کر کوئی سیاست نہ کریں، خواجہ آصف نے تقسیم پیدا کردی۔