عمران ،بشریٰ کی ضمانت کےخلاف حکومتی اپیلیں واپس،سائفر کیس ملتوی


اسلام آباد: (بیورورپورٹ)پنجاب حکومت نے عمران ،بشریٰ کی ضمانت کےخلاف اپیلیں واپس لے لیں،سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے کہاہدایات ہیں ضمانت کےخلاف اپیلیں واپس لے لی جائیں، عدالت نے ضمانت منسوخی کی اپیلیں واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دیں،دریں اثنا سائفر اپیل کیس بغیر کارروائی ملتوی کردیا گیا۔

پراسیکیوٹر جنرل نے کہا تفصیلی فیصلہ جمع نہیں کرایا، مہلت دی جائے،بیرسٹر سلمان صفدر روسٹرم پر آ گئے، جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا آپ کیا کررہے ہیں؟،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کورٹ میں تھا مجھے نوٹس نہیں ہوا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دئیے اگر آپ چاہتے ہیں تو آپ کو نوٹس کر دیتے ہیں لیکن ابھی طے نہیں اپیل قابل سماعت ہے یا نہیں،عدالت نے تفصیلی فیصلہ جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت کو غیر معینہ مدت تک کےلئے ملتوی کردیا۔

علاوہ ازیں جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے توشہ خانہ اور ہتک عزت مقدمات پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے موقف اپنایا توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ نے سزا معطل کی تھی، توشہ خانہ میں سزا تو معطل ہوئی لیکن فیصلہ نہیں ہوا، فیصلہ نہ ہونے کی بنا پر الیکشن نہیں لڑنے دیا گیا حالانکہ سزا معطل تھی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا اگر کسی اپیل میں سزا معطل ہو گئی ہے تو پھر رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے،جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا اگر کسی معاملے میں سزا معطل ہو جائے تو بندہ جیل میں رہے گا یا پھر آزاد ہوگا، لطیف کھوسہ نے کہا جی سزا معطل ہونے پر بندہ آزاد ہوگا،توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کے معاملے کی سماعت کے دوران لطیف کھوسہ کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے کی استدعا مسترد کردی گئی۔

لطیف کھوسہ نے کہا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا آپ نے ازخود نوٹس کا اختیار لے لیا ،فوجداری مقدمے میں ملاقات کا حکم کیسے دے سکتے ہیں،جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا جو کیس سامنے فکس ہی نہیں اس پر حکم کیسے جاری کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دئیے عدالت میں کھڑے ہو کر سیاسی باتیں نہ کریں، سیاسی باتیں پارلیمنٹ جاکر کریں،جسٹس ہاشم کاکڑ نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دئیے ٹھیک ہے آپ نے بات کردی اب ٹکرز بھی چلیں گے، وی لاگز بھی ہو جائیں گے، عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا،جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا ذہن میں رکھیں جمعرات کو پہلا روزہ ہے اور بنچ میں 2 پٹھان ججز موجود ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی 3 سال سزا معطل ہوئی لیکن فیصلہ معطل نہیں ہوا، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا بات سمجھ نہیں آ رہی سزا معطل ہونے کے بعد تو فیصلہ بھی معطل ہوتا ہے، آپ ذرا ہائیکورٹ کا متعلقہ حکمنامہ تو پڑھیں،لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکمنامے کا متعلقہ پیراگراف پڑھا، جسٹس ہاشم کاکڑ نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دئیے لطیف کھوسہ صاحب آپ نے تو ہائیکورٹ سے صرف سزا معطلی کی استدعا کی تھی جو ریلیف مانگا عدالت نے دےدیا۔

لطیف کھوسہ نے کہا سپریم کورٹ کے 2019 کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا جس فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں اس کا پیرا گراف نمبر 13 پڑھیں، فیصلے میں تو سزا اور فیصلہ دونوں معطل ہوئے تھے، لطیف کھوسہ صاحب آپ اپنے ہی خلاف عدالتی فیصلہ لیکر آگئے ،کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے ،جسٹس ہاشم کاکڑ نے لطیف کھوسہ سے مکالمہ کیا لگتا ہے آپ کی عینک کمزور ہو چکی ، آپ کو راستہ دے رہے تھے الیکشن کمیشن کو سن لیتے ہیں، آپ نے اپنے خلاف جو عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا اسے پی جاتے ہیں،چلیں خیر ہے کوئی بات نہیں، یوں سمجھ لیتے ہیں جس فیصلے کا آپ نے حوالہ دیا وہ ہمارے سامنے ہے ہی نہیں ویسے بھی ایک 2ماہ میں کونسا الیکشن ہونے جا رہے ہیں،لطیف کھوسہ نے کہا پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کا معاملہ تو ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا ہمارے سامنے جیتا جاگتا بڑا سا چیئرمین پی ٹی آئی بیٹھا ہوا ہے،عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

سماعت سے قبل جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے سلمان صفدر سے مکالمہ کیاکمرہ عدالت میں گنجائش کم ،آکسیجن کی کمی محسوس ہو رہی ہے،مقدمات کمرہ عدالت نمبر 2 میں سنے جائیں گے۔

دوسری جانب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے عمران خان کےخلاف 6کیسز پر سماعت کی، بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دئیے، عدالت نے 24 فروری کو تمام مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے عمران خان کو عدالت یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔