عمران کے علاج میں تاخیر کی ذمہ دارعلیمہ، بلیم گیم کھیلی گئی،محسن نقوی

لاہور:(وقائع نگار)وزیر د اخلہ محسن نقوی نے بانی پی ٹی آئی کے علاج میں تاخیر کاذمہ دارعلیمہ خان کو قرار دیتے ہوئے کہا معاملے پربلیم گیم کھیلی گئی، سیاسی انتقام لینا ہوتا تو جیل میں ہی سختیاں کرتے،پی ٹی آئی بانی کی بیماری کیش کرانا چاہتی ہے ، علیمہ خان علاج کیلئے منع کرتی رہیںاور پارٹی رہنماﺅں سے کہامان گئے تو معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہاعلاج کے معاملے پر پی ٹی آئی قیادت آن بورڈ ہوتی توعلیمہ خان معاملے کو ویٹو کر دیتیں،عمران خان کی آنکھ پرپروپیگنڈا کیا گیا،علاج کے معاملے میں کوئی بھی قیدی ہو آئین و قانون کے تحت سہولت فراہم کریں گے،پی ٹی آئی قیادت سے مسلسل رابطے میں تھے، کہا کسی معروف آئی سپیشلسٹ کا نام دےدیں چیک اپ کرا دیتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہاعلاج کےلئے بہترین سرکاری و نجی ڈاکٹروں کا انتخاب کیا،بیرسٹر گوہر کو کہا آپ خود ڈاکٹرز کی موجودگی کا جائزہ لے لیں، ایک گھنٹے تک گوہر صاحب کا انتظار کرتے رہے، گوہر صاحب نے کہا پارٹی قیادت سے مشاورت ہوئی وہ نہیں آسکیں گے، ساڑھے 3 بجے ڈاکٹرز نے چیک اپ کیااور ڈیڑھ گھنٹے تک رہے پھر بیرسٹرگوہر سے رابطہ کیا اور کہا آپ، اپوزیشن لیڈرقومی اسمبلی و سینٹ ،ذاتی ڈاکٹروں کو ساتھ لے آئیں، بیرسٹر گوہر نے کہا ڈاکٹر تو لاہور میں ہیں، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی وسینٹ پمز آگئے، تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ڈاکٹروں سے ملاقات کی،45 منٹ 2ڈاکٹرز فون پر بریفنگ لیتے رہے،45منٹ ہی سیاسی رہنماوں نے بریفنگ لی، پی ٹی آئی کے ڈاکٹروں نے کہا بہترین علاج ہورہا ہے ہم بھی ایسا ہی علاج کرتے۔

محسن نقوی نے کہا پی ٹی آئی قیادت نے بانی کے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا پھر بھی پروپیگنڈا کیا گیا،میں نے کہا آپ اپنے ڈاکٹرز سے پوچھ لیں کوئی ٹیسٹ رہ گیا تو کرادیں گے، محمود اچکزئی نے وزیراعظم کو خط لکھا، خط لکھنے سے پہلے ہی پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کےساتھ رابطے میں تھے، ایاز صادق رابطہ کراتے رہے،ہسپتال منتقلی کے مطالبے پر کہاڈاکٹر کہیں گے تو ایک ہفتے کیا2ہفتے تک ایڈمٹ کر دیں گے، علیمہ خان نے پارٹی لوگوں کو کہا مان گئے تومعاملہ ختم ہوجائےگا،علیمہ خان کی وجہ سے میڈیکل چیک اپ نہیں ہو سکا، معاملے میں بھر پور قسم کی سیاست کھیلی گئی اگر آپ کی نیت ٹھیک ہوتی تو پہلے روز ہی مان جاتے، معائنے کے وقت بانی کے کزن قاسم کا نام دیا ،سیاسی لیڈر آن بورڈ ہوتے لیکن علیمہ خان معاملے کوویٹو کرتی رہیں،کہا گیا بانی کی 85فیصد بینائی ختم ، کسی نے کہا ایک آنکھ ضائع ہوگئی۔

وزیر داخلہ نے کہا احتیاطاً بانی پی ٹی آئی کو انجکشن لگوایا،بانی پی ٹی آئی کو ملنے والا کھانا سب ریکارڈ کا حصہ ہے، پھر روڈ بلاکس، لوگوں کو تنگ کرنا کیوں؟،راستے بند کرکے لوگوں کوتکلیف پہنچائی جارہی ہے، کچھ لوگ بانی کی صحت سے زیادہ اپنی سیاست کیلئے فکر مند ہیں، حکومت معاملے پر سیاست نہیں کرنا چاہتی، کوشش کی گئی اسلام آباد کے ریڈ زون میں خرابی پیدا کی جائے، صورتحال کو خوش اسلوبی سے سنبھالا، تماشا بنانا بالکل غیرمناسب ہے،لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے، عدالت کا فیصلہ آچکا کے پی میں بند سڑکوں کو بحال کیا جائے، کسی اور کے عزائم میں اپنی سیاست کرنےوالے عوام کے دشمن ہیں۔

محسن نقوی نے کہا سمجھدار لوگوں کی سنی جاتی توپی ٹی آئی کی موجودہ صورتحال نہ ہوتی،حکومت ،پی ٹی آئی کے درمیان کوئی بات نہیں ہورہی،ہمیشہ کہتا ہوں مذاکرات سے ہرمسئلہ ہوتاہے، وزیراعظم بھی پہلے دن سے مذاکرات کی بات کر رہے ہیں،کسی کو احتجاج یا چڑھائی کاشوق ہے تو نتائج کاسامناکرےگا،کوشش کرکے دیکھیں لگ پتہ جائےگا،ریڈزون میں کسی شرپسندی کی اجازت نہیں، راستے بند کرنے والے پھر دیکھ لیں،بڑی کلیئرہدایات ہیں، عدالتی فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے،بات چیت میرا سبجیکٹ نہیں ، میرے پاس اپوزیشن لیڈر کا خط ہے،پڑھ لیں پتہ چل جائے گا کیامانگ رہے ہیں،دہشتگردی کے پیچھے 100فیصد بھارت ملوث ،دنیا کو بھی سمجھانا ہوگا،خیبر پختونخوا پولیس لڑرہی ہے لیکن سیاسی قیادت کو بھی آن بورڈ ہونا پڑے گا۔