لاہور(قاضی ندیم اقبال) ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور پنجاب حافظ انیس الرحمن نے کہا ہے کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں۔اولیائے کرام کی تعلیمات سر چشمہ ہدایات ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم اپنی دنیا بہتر بنانے کے علاوہ آخرت کو بھی بخوبی سنوار سکتے ہیں۔جزا و سزا کے موثر نظام کے بغیر کسی بھی ادارے کی ترقی اور اس کے ملازمین کی استعداد کار میں بہتری ممکن نہیں۔ حکومت پنجاب کی ترجیحات اور وزیر اعلی پنجاب مریم نوازشریف کے ویژن کی روشنی میں محکمہ اوقاف پنجاب میں اصلاحات کا عمل جاری ہے جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آرہے ہیں۔فیورٹ ازم، پک اینڈ چوز، سلیکٹیڈ احتساب کا دور گذر چکا۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ تاخیری حربوں سے محکمہ میں جاری جزا و سزا کے عمل میں رکاوٹ ڈالی جا سکتی ہے ، وہ خواب غفلت کا شکار ہیں۔قوانین کی پاسداری اولین ترجیح ہے۔ سیکرٹری اوقاف پنجاب ڈاکتر احسان بھٹہ کی سربراہی میں جامعہ ہجویریہ میں زیر تعلیم بچوں کو معاشرے کا بہترین فرد بنانے کے لئے انہیں نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کی بابت ہر ممکنہ سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔جامعہ ہجویریہ کے طلبہ کو جدید تعلیمی رجحانات سے ہم آہنگ کرنے کے لئے پلان کے مطابق کام شروع ہو چکا۔تحقیقی اصلاحات، دینی تعلیم کی جدید تشکیل کیلئے محکمہ اوقاف پنجاب کا لمز سمیت ممتاز جامعات سے اشتراک اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اس امر کا اظہارانہوں نے ”مشرق“ کو دئیے گئے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ایک سوال کے جواب میں ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور پنجاب نے کہا کہ محکمہ اوقاف پنجاب کے پاس اس وقت 437 وقف مساجد موجود ہیں۔ جن میں سے 280بریلوی مکتبہ فکر، 140 دیوبندی مکتبہ فکر 9 اہلحدیث مکتبہ فکر اور 8 اہل تشیع مکتبہ فکر سے وابستہ ہیں جبکہ ماڈل مدرسہ جامع ہجویریہ سمیت 60وقف مدارس بھی موجود ہیں۔جن میں سے 37فعال ہیں۔جس طرح مساجد و مزارات کی ترقی اور بحالی مذہبی ورثے کے تحفظ کیلئے ناگزیر ہے۔ بالکل اسی طرح عملہ مساجد کا اپنی جائے تعیناتی پر حاضر ہونا اور محکمانہ پالیسی کی روشنی میں مساجد میں قرآن و سنت کی تعلیمات کا فروغ بھی اشد ضروری ہے۔سیکرٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے جامع مسجد داتا دربار میں روزانہ کی بنیاد پر کشف المحجوب کا درس دینے کا سلسلہ شروع کروانے کے بعد صوبہ بھر کی وقف جامعہ مساجد میں تعینات آئمہ خطبائ کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے فروغ کی غرض سے روزانہ کی بنیاد پر درس دینے کا پابند بنادیا ہے ، جو کہ ایک مثبت طرز عمل ہے۔اس پالیسی پر ڈائریکٹوریٹ جنرل مذہبی امور پنجاب کی جانب سے ہر صورت عمل درآمد کروائے گا۔ماڈل مدرسہ جامعہ ہجویریہ کی بابت کئے گئے سوال کے جواب میں حافظ انیس الرحمن نے کہا کہ سیکرٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ کی ہدایت پر مستقبل کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ اوقاف پنجاب نے محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب نے جامع اصلاحاتی حکمت عملی کے تحت تحقیقی و تعلیمی ترقی کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز سمیت ملک کی ممتاز جامعات کے ساتھ اشتراک عمل قائم کیا ہے جس کا مقصد دینی تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، تحقیقی معیار کو بلند کرنا اور طلبہ کو عصری علمی رجحانات سے روشناس کرانا ہے۔جامعہ ہجویریہ کے طلبہ کو جدید تحقیق اور بین الشعبہ جاتی تعلیم سے جوڑنے کیلئے جامعہ پنجاب، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی اور لمز کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف دینی تعلیم کے معیار میں اضافہ ہوگا بلکہ طلبہ کو جدید تعلیمی رجحانات سے ہم آہنگ ہونے کا موقع بھی ملے گا۔ ایسے طلبہ کیلئے جو اعلیٰ تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے، پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل کے تعاون سے فنی تربیتی کورسز شروع کر دئیے گئے ہیں تاکہ انہیں باعزت روزگار کے قابل بنایا جا سکے۔ اہم منصوبوں اور مزارات کی توسیع کو محفوظ بنانے کیلئے ایک کافی ٹیبل بک بھی تیار کی جا رہی ہے۔ ٹیوٹا و دیگر جامعات سے کئے گئے معاہدے دینی مدارس کے طلبائ کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور انہیں معاشی طور پر خود کفیل بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ جامعہ ہجویریہ کے طلباکیلئے تربیتی واقعات کی روشنی میں انہیں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جائے گا۔طلبائ کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ تکنیکی مہارت فراہم کرنے کی غرض سے جامعہ ہجویریہ کے طلباءکو مختلف فنی کورسز کروانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔مستقبل قریب میں تکنیکی مہارت والے طلبہ کے لئے روزگار کے بہتر مواقع دستیاب ہوں گے۔ حافظ انیس الرحمن نے واضح کیا کہ حکومت پنجاب کی ترجیحات اور گائیڈ لائنز کی روشنی میں ڈسپلن کے معاملہ پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔ فنانشل ڈسپلن کی پاسداری اور صوبہ بھر میں جاری ترقیاتی کاموں کو بروقت مکمل کرنے کیلئے پراجیکٹ ڈائریکٹوریٹ کو جاری گائیڈ لائنز پر عمل درآمد، رائٹ مین، رائٹ جاب فارمولہ کے تحت تقرر یاں و تبادلے ،ایوان اوقاف سمیت صوبہ بھر میں بائیو میٹرک سسٹم پر حاضری یقینی بنانا محکمہ اوقاف اصلاحات کا حصہ ہیں۔اور یہ اصلاحاتی عمل جاری رہے گا۔ اگر ہم الہامی مذاہب کی اہمیت پر غور کرتے ہیں تو اس میں ایک بنیادی نقطہ نظر آتا ہے، وہ سزا اور جزا کا نظام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر انسانوں کو نیکی اور بدی کی تمیز کا پیغام دے کر نیکی کے راستے پر چلنے والوں کیلئے جزا رکھی گئی ہے مگر شیطان کے پیروکاروں کیلئے سخت سزا کی نوید بھی سنائی گئی ہے۔ دنیاوی قوانین اور معاشرتی نظاموں میں جن کی بنیاد فطرت کے نظام سزا اور جزا کی بنیاد پر رکھی گئی۔ وہ دنیا میں کامیابی کے ساتھ چلے سزا اور جزا کے قانون پر عملدرآمد کرنے والے معاشرے دنیا میں سربلند اور کامیاب و کامران ہوئے۔ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور پنجاب نے بتایا کہ دسمبر2025سے تاحال اپریل 2026 کے دورانیہ میں ترقیاتی منصوبوں کی بحالی، مالی نظم و ضبط، ڈیجیٹائزیشن اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے ادارے کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے۔ترقیاتی محاذ پر طویل عرصے سے تعطل کا شکار منصوبوں کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔مزارات کی توسیع، ڈیجیٹائزیشن اور سیاحتی منصوبوں سے ادارہ جاتی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور محکمانہ آمدن میں 150 فیصد تک اضافہ ہوا۔جبکہ طے شدہ پلاننگ کے تحت آنے والے دنوں میں موثر نگرانی سے مالی شفافیت، مستحکم انتظامی و قانونی اصلاحات، اسکیموں کی بحالی ، عوامی روابط میں وسعت لائی جاسکے گی۔ ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور پنجاب حافظ انیس الرحمن نے کہا کہ تنقید برائے تنقید اور تنقید برائے اصلاح میں فرق ہوتا ہے۔ہر کام میں بہتری کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ اسی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے اور محکمانہ ریکارڈ کی روشنی میں اوقاف و مذہبی امور پنجاب میں اصلاحاتی عمل اور محکمانہ ریفارمز کے سلسلے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے نظم و ضبط پر عمل درآمد احتساب سب کے لئے کے فارمولے پر عمل کیا جا رہا ہے۔حکومت پنجاب کی گائیڈ لائنز اور قوانین کی روشنی میں کام کرنے والوں کو عزت و تکریم سے نوازا جائے گا ، اور جو کام دکھانے کی کوشش کریں گے یا کام دکھانے والوں کا ساتھ دیتے ہوئے محکمانہ ریفارمز اور حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ ڈالیں گے وہ قوانین کے مطابق جزا و سزا کے عمل سے ہر صورت گذریں گے۔
محکمہ اوقاف پنجاب میں اصلاحات کا عمل جاری ہے : ڈی جی مذہبی امور



















