لاہور (میاںذیشان) لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران کی نااہلی، مجرمانہ غفلت اور مبینہ ملی بھگت نے صوبائی دارالحکومت لاہور کو غیر قانونی ہاﺅسنگ سوسائٹیز کے نرغے میں دیدیا گیا، شہر کے گردونواح میںموجود سینکڑوں غیر قانونی ہاﺅسنگ سوسائٹیز کے خلاف جامع اور فیصلہ کن مسماری آپریشن کرنے کے بجائے شعبہ میٹروپولیٹن پلاننگ معاونت فراہم کرنے میں موجود ہے۔ غیر قانونی ہاﺅسنگ سوسائٹیز میں ہونیوالی سرگرمیوں کو روکنے، میونسپل سروسز کی فراہمی فوری طور پر منقطع کرنے، فردات کے اجراءاور انتقالات پر مکمل پابندی عائد کرنے کیساتھ ساتھ سوسائٹیز مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور مقدمات کا اندراج اب ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔ ایل ڈی اے کا نظام مکمل طور پر مفلوج دکھائی دیتا ہے جہاں قوانین کی کھلی اور مسلسل خلاف ورزی کے باوجود کوئی موثر احتساب نظر نہیں آتا اور ذمہ داران کی کارکردگی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے تشہیر شدہ غیر قانونی ہاﺅسنگ سوسائٹیز کی تعداد 200 سے تجاوز کر چکی ہے جن میں نیو گرین سٹی، مدینہ سٹی، ایورگرین ہاﺅسنگ سکیم، الحمد گارڈن فیز ٹو کے غیر منظور شدہ بلاکس، فیصل گرین سٹی، پاک عرب ہاﺅسنگ سوسائٹی کے توسیعی غیر منظور شدہ حصے، گلشن رحمان، اتحاد ٹاﺅن، صدیقہ ٹاﺅن، رائل ریزیڈنسی، جناح گارڈن، مکہ سٹی، النور آرچرڈ کے غیر منظور شدہ بلاکس، الحفیظ گارڈن ایکسٹینشن، بسم اللہ ہاﺅسنگ سکیم، فاطمہ جناح کالونی، علی ٹاﺅن ایکسٹینشن، گرین ویلی ہاﺅسنگ سکیم، الرحمن گارڈن فیز تھری (غیر منظور شدہ حصہ)، قائد ایونیو ہاﺅسنگ سکیم، ہمدرد ٹاﺅن اور دیگر متعدد سکیمیں شامل ہیں جہاں کھلے عام پلاٹوں کی فروخت، فائلوں کی خرید و فروخت اور غیر قانونی ترقیاتی کام جاری ہیں۔ ان سوسائٹیز میں ایل ڈی اے پرائیویٹ ہاﺅسنگ سکیم رولز 2014 کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر این او سی سکیموں کا اجرا کیا جا رہا ہے، سیکشن 7 کے تحت منظور شدہ ماسٹر پلان کے بغیر سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کی جا رہی ہے، سیکشن 9 کے برخلاف بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بغیر پلاٹس فروخت کیے جا رہے ہیں، سیکشن 11 کے تحت دھوکہ دہی پر مبنی اشتہارات کے ذریعے شہریوں کو راغب کیا جا رہا ہے جبکہ سیکشن 15 کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے رجسٹری و انتقال کے عمل کو جاری رکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق شعبہ میٹروپولیٹن پلاننگ کے افسران کی نااہلی، مجرمانہ غفلت اور مبینہ ملی بھگت کے باعث یہ غیر قانونی سرگرمیاں نہ صرف جاری ہیں بلکہ دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں جس سے لاہور کا ماسٹر پلان شدید متاثر ہو رہا ہے اور بے ہنگم شہری پھیلاﺅ نے انفراسٹرکچر کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ان سوسائٹیز کے خلاف نہ تو مکمل مسماری آپریشن کیا گیا، نہ ہی میونسپل سروسز منقطع کی گئیں اور نہ ہی فردات کے اجرا اور انتقالات پر موثر پابندی عائد کی جا سکی، جس سے شہریوں کے اربوں روپے کی جمع پونجی خطرے میں پڑ چکی ہے جبکہ حکومتی خزانہ ٹیکسز اور دیگر محصولات کی مد میں کروڑوں روپے کے ریونیو سے محروم کیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق ایل ڈی اے کی ناقص کارکردگی اور غیرموثر نگرانی نے نہ صرف غیر قانونی ہاﺅسنگ سیکٹر کو فروغ دیا ہے بلکہ شہریوں کے اعتماد کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے اور اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کئے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
لاہور (سپیشل رپورٹر) لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور غیر قانونی ہاﺅسنگ سوسائٹیز کے معاملے پر موقف جاننے کیلئے شعبہ میٹروپولیٹن پلاننگ کے چیف ایم فیصل اور ترجمان ترقیاتی ادارہ لاہور اسامہ محمود سے متعدد بار رابطہ کیا گیا تاہم کالز اور پیغامات کے باوجود ان کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ادارہ ہذا کی جانب سے دونوں افسران کو موقف پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا گیا تھا تاکہ الزامات کی وضاحت سامنے آ سکے مگر تاحال خاموشی اختیار کیے جانے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ اس ضمن میں واضح کیا جاتا ہے کہ اگر متعلقہ افسران مستقبل میں اپنا موقف دینا چاہیں تو اسے من و عن شائع کیا جائے گا تاکہ عوام کے سامنے حقائق کا دوسرا پہلو بھی رکھا جا سکے اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایل ڈی اے کی نااہلی، غفلت یا ملی بھگت،200 سے زائد غیرقانونی ہاﺅسنگ سوسائٹیز کے نرغے



















