لاہور (سٹاف رپورٹر) عالمی نشریاتی ادارے کی تونسہ میں ایچ آئی وی کی کہانی حقائق کے منافی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر گزشتہ سال جب محکمے سے اس واقعہ کا الرٹ جاری ہوا تھا، 55 ہزار گھروں کی سکریننگ کا عمل مکمل کیا گیا جو اگست 2025 تک جاری رہا جس کے نتیجے میں 7 یونین کونسلوں میں 334 ایڈز کے مریضوں کی تشخیص ہوئی تھی یہ عمل آج بھی جاری ہے اس صمن میں تونسہ میں سپیشل کاونٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔ محکمہ نے بروقت اقدامات اٹھا کر ایچ آئی وی کی پھیلاو کو روکا تھا اور الحمدللہ محکمے کی بروقت کاروائی سے متاثرہ تحصیل میں اس موذی مرض کا گراف بتدریج نیچے آیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر نے گزشتہ روز یہاں محکمہ صحت و آبادی کے سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی نشریاتی ادارے کی تونسہ کے حوالے سے یہ سٹوری ایک سال پرانی سٹوری ہے جس کو بغیر کسی موقف کے یکطرفہ طور پر شائع کیا گیا ہے اور محکمہ پہلے ہی اس واقعہ پر کارروائی عمل میں لا چکا ہے، اس کو موقف کے بغیر جاری کرنا صحافتی اقدار کے خلاف ہے بلکہ عوام کے دلوں میں شکوک و شبہات بھی پیدا کرتی ہے۔ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ ہم فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دیکر اس رپورٹ کا مکمل فرانزک کرائیں گے اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔ صوبائی وزیر صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ اس وقت میں جب عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافی ہوا ہے دنیا ہمارے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کے کردار کی تعریف کر رہی ہے اس وقت اس طرح کی اسٹوری کا سامنے آنا کوئی سازش تو نہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ مریم نواز شریف کی حکومت ہے جس کی گڈ گورننس کی مثالیں ان کے ناقدین بھی کرتے ہیں ایسا ممکن ہی نہیں کہ حکومت نے ایڈز کیسز پر بروقت ایکشن نہ لیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ عالمی نشریاتی ادارے کی سٹوری میں یہ تاثر دینا کہ حکومت نے مناسب اقدامات نہیں اٹھائے سراسر حقائق کے منافی ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نوازشریف نے محکمے کو اس وقت بھی ہدایات جاری کئیں تھیں کہ کسی بھی متاثرہ شخص کو تنہا نہیں چھوڑنا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی بیماری سے انکار نہیں کرتی پر اس سے متعلق اس کے حقائق توڑ مروڑ کے پیش کرنا صحافتی فرائض سے بددیانتی ہے۔ صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر فوری طور پر محکمہ صحت کی ٹیم تونسہ روانہ کی گئی جبکہ یونیسف، ڈبلیو ایچ او اور سی ایم یو پر مشتمل جوائنٹ مشن بھی تشکیل دیا گیا تھا۔ جوائنٹ مشن کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے کاروائی عمل میں لائی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ جوائینٹ کمیشن کی رپوڑٹ میں اس واقعہ کی ممکنہ وجہ ان مریضوں کا غیر رجسٹرڈ شدہ کلینک اتائیوں سے علاج کروانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب نے اس وقت بھی اس واقعہ کا نوٹس لیا تھا اور ان کی ہدایت پر عطائی ڈاکٹروں کے خلاف ایک بھرپور آپریشن شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 240 کلینک سیل کئے گئے اور گیارہ ایف آئی آر بھی درج کروائی گئیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے میں تہہ تک جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرنج کے بار بار استعمال کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، جدید سرنج ایک بار استعمال کے بعد خود لاک ہو جاتی ہے، جبکہ ہسپتالوں میں کوئی غیر رجسٹرڈ رضاکار کام نہیں کرتا۔ وزیر صحت نے کہا کہ ایڈز کے مریضوں کا ڈیٹا اس لیے عام نہیں کیا جاتا کیونکہ معاشرہ ایسے افراد کو قبول نہیں کرتا، تاہم حکومت تمام مریضوں کی مسلسل نگرانی اور علاج جاری رکھے ہوئے ہے۔ پنجاب میں ایڈز سے ایک بھی موت رپورٹ نہیں ہوئی، ہم ہر مریض کا مکمل ڈیٹا رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جب یہ واقعہ رپورٹ ہوا تھا تو اسی وقت ٹی ایچ کیو ہسپتال تونسہ میں مارچ 2025 میں فوری طور پر ایڈز سکریننگ اور علاج کے لئے مستقل سینٹر قائم کیا گیا جو 5000 افراد کی سکریننگ کر چکا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر سکریینگ اور مستقل علاج فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں Auto Disposable Syringes مہیا کی گئی ہیں۔Auto Disposable Syringe کا ایک بار استعمال کے بعد دوبارہ استعمال ممکن نہیں ہے۔انہوں نے مذید کہا کہ سکریننگ کے نتیجے میں اپریل اگست 2025 میں 82 اور95 کیسزکی نشاندہی ممکن ہوئی۔ ضروری اقدامات کے بعد ماہ دسمبر 2025 میں یہ صرف 4 کیس رہ گئے- انہوں نے کہا کہ بی بی سی اردو کی رپورٹ میں بتائے گئے تمام کیس ایڈز کنٹرول پروگرام کی سکریننگ کے بعد سامنے آئے تھے. یہ تمام کیسز دسمبر2024 اور 2025 کے ہیں جس پر محکمہ اپنی تمام تر ضروری اقدامات اور کاروائی پہلے سے ہی عمل میں لا یا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی بی سی اردو کو محکمہ صحت کے جامع اقدامات کی تفصیل مہیا کی گئی تھی جسے رپورٹ میں شامل نہ کیا گیا ہے۔ یہ ذمہ دارانہ صحافت کے اصولوں کے خلاف ہے۔
تونسہ میں ایچ آئی وی پھیلاﺅ کی کہانی بے بنیاد، بروقت اقدامات سے گراف نیچے آیا :صوبائی وزیر صحت



















