ریلویز مغلپورہ ڈی پی او کی غفلت، ہیڈٹائم کیپر 2 بار ٹرانسفر آرڈر کے باوجود سیٹ پر قابض

لاہور (قمر عباس نقوی) ریلویز مغلپورہ ڈی پی او کی غفلت کیرج اینڈ ویگن شاپ سی سی 7111کے ہیڈ ٹائم کیپر کی 2 دفعہ ٹرانسفر کے احکامات پر عملدرآمد کروانے کی بجائے ریلیف فراہم کرنے کی منصوبہ بندی، ٹرانسفر آرڈر کینسل نہ ہونے کے باوجود تاحال کیرج شاپ میں کام جاری ، اے پی او سمیت لیبر وارڈن ہیڈ ٹائم کیپر کیلئے سہولت کارمجاز اتھارٹی کو گمراہ کرنے کا انکشاف۔پاکستان ریلویز مغلوپورہ ڈویژنل آفیسر ورکشاپ کی نا اہلی کے باعث سی سی 7111کیرج اینڈ ویگن شاپ میں ہیڈ ٹائم کیپر انچارج طاہر غوری اور اسکی ٹیم کی جانب سے مالی بے ضابطگیوں سمیت مبینہ کرپشن اور سرکاری سامان کی چوری سمیت اختیارات کے نا جائز استعمال کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے جبکہ خاتون ڈی پی او ورکشاپ کی جانب سے ہیڈ ٹائم کیپر انچارج کی مارچ 2025میں کیرج اینڈ ویگن شاپ سی سی 7111سے ٹرانسفر الیکٹرک شاپ سی سی 7506میں کی گئی تھی جس پر عملدرآمد نہ کروانے میں ناکامی کے بعد 2مئی 2026میں ہیڈ ٹائم کیپر طاہر غوری کی دوباری 2025کے ٹرانسفر کو دہرایا گیا اس کے علاوہ 9ملازمین کی ٹرانسفر کی گئی جس پر ہیڈ ٹائم کیپر سے ایک دفہ پھر ڈی پی او اپنے ہی احکامات پر عملدرآمد کروانے کی بجائے مبینہ طور پر ریلیف فراہم کرنے کی منصوبہ بندی اختیار کر رکھی ہے۔ مئی 2026میں ٹرانسفر ہونے والے 10ملازمین سے 2ملازمین نے ٹرانسفر پر عملدرآمد کیا گیا جبکہ ہیڈ ٹائم کیپر اور اس کی ٹیم کی جانب سے عملدرآمد نہیں کیا گیا جبکہ اس پر متعلقہ اے پی او رحمت اور لیبر وارڈن مجید غوری کی جانب سے مجاز اتھارٹی کو ٹرانسفر پر عملدرآمد ہونے یا نا ہونے پر آگاہ کرنے کی بجائے گمراہ کیا گیا جس کی بنیاد پر تاحال ٹرانسفر احکامات کو ماننے سے انکاری دکھائی دے رہا ہے۔ لیبر وارڈن کیرج کی ذمہ داری پراسنل معاملات کو دیکھنے جس میں ٹرانسفر پوسٹنگ ،ریٹائرڈ ملازمین کی پینش ،ملازمت کے دوران فوت شدگان کے بچوں کو ملازمت دلوانے جیسے معاملات کو دیکھنا ہے۔ اس حوالے سے ایک سال قبل ہونے والی ٹرانسفر جو کہ ڈی پی او ورکشاپ کی جانب سے سی سی 7111ہیڈ ٹائم کیپر طاہر غوری کی ٹڑانسفر پر عملدرآمد ہونے والے معاملہ پر مجاز اتھارٹی کو گمرکیا گیا جب کہ 2مئی 2026میں ہونے والی ٹرانسفر کو ایم ہفتہ سے زائد گزرنے کے باوجود بھی متعلقہ شاپس میں ڈیوٹی جوائن کرنے کی بجائے اسی جگہ پر غیر قانونی طور پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ڈی ایس مغلپورہ ورکشاپ افتخار حسین نے موقف نہیں دیا گیا جبکہ خاتون ڈی پی او کو موقف لینے کی خاطر رابطہ کیا اور وٹس ایپ میسج بھی کیا ان کی جانب سے جواب نہیں دیا گیا بلکہ متعلقہ رپورٹر کا نمبر ہی بلاک کر دیا گیا۔