لاہور(انویسٹی گیشن سیل /آصف مغل) چلڈرن ہسپتال سے پروفیسر حضرات کے ڈیوٹی پر موجود رہنے کے حوالے سے شکایات سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہسپتال کے پروفیسرز حضرات نے ڈیوٹی کے ٹائم پر اپنی سیٹ سے غائب رہنا معمول بنا لیا جس کی وجہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو علاج معالجہ میں سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔چلڈرن ہسپتال کے ذمہ داران بیشتر عہدوں پر براجمان ہونے کے باوجود ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق چلڈرن ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر جنید راشد ہسپتال کے 3 اہم عہدوں پر براجمان ہیں۔ وہ بیک وقت ڈین آف چلڈرن ہسپتال، پرو وائس چانسلر یونیورسٹی آف چلڈرن ہیلتھ سائنسز ، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ میڈیکل یونٹ 1 کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ مبینہ طور اتنے اہم عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود کرتے صرف ڈیوٹی ٹائم پر اپنی سیٹ پر موجود نہیں ہوتے۔ ذرائع کے مطابق پچھلے دنوں وزیر اعلی انسپکشن ٹیم سروے کیلئے آئی تو پروفیسر ڈاکٹر جنید اپنی سیٹ پر موجود نہیں تھے۔ دوسری جانب ایسی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ ہسپتال میں ایم آر آئی، سی ٹی سکین ،الٹرا ساونڈ جیسے اہم اور فوری ٹیسٹوں کیلئے مہینوں بعد کا ٹائم دیا جاتا ہے اس وجہ سے بھی معصوم بچوں کی صحت اور زندگیوں کو درپیش سنگین خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔ والدین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے نوٹس کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ چلڈرن ہسپتال میں انتظامی معاملات کو میرٹ پر درست کرکے علاج معالجے کی سہولیات میں فوری بہتری لانے کے اقدامات کئے جائیں۔
لاہور(ہیلتھ رپورٹر سے) اس خبر کے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر جنید راشد نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ میں ہسپتال میں موجود ہوتا ہوں جس دن انسپکشن ٹیم آئی اس دن بھی ڈیوٹی پر موجود تھا جس کا میرے پاس پروف موجود ہے مگر میں اپنے آفس میں نہیں تھا میرے خلاف یہ سب وائی ڈی اے کے بچے کروا رہے ہیں۔وجہ یہ ہے ہسپتال میں کچھ ڈاکٹرز بائیو میٹرک حاضر نہیں لگانا چاہتے جس وجہ سے میرے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
چلڈرن ہسپتال، پروفیسر حضرات کا ڈیوٹی سے غائب رہنا معمول، بچوں کے ورثاءپریشان



















