وسائل کی نئی تحصیل کونسلوں کو مکمل منتقلی عبوری مرحلے میں

لاہور (خبر نگار) پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کے نفاذ کے باوجود سابق ڈسٹرکٹ کونسلوں کے اثاثوں، جائیدادوں، فنڈز اور دیگر وسائل کی نئی تحصیل کونسلوں کو مکمل منتقلی کا عمل تاحال عبوری مرحلے میں ہے جس کے باعث کئی مقامات پر نئے بلدیاتی اداروں کو سابق اداروں کے وسائل اور جاری منصوبوں کے حوالے سے انتظامی مسائل کا سامنا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق صوبے کی 40 ڈسٹرکٹ کونسلوں کے فنڈز منجمد کرکے انہیں نئی تحصیل کونسلوں کو منتقل کرنے کا عمل شروع کیا جا چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق منتقلی کے عمل میں صرف فنڈز ہی نہیں بلکہ ڈسٹرکٹ کونسلوں کی گاڑیاں، مشینری، عمارتیں، دکانیں، آمدن کے ذرائع، ترقیاتی منصوبے، ملازمین اور متعلقہ ریکارڈ بھی نئی تحصیل کونسلوں کو منتقل کیا جانا ہے۔ رواں سال اپریل میں راولپنڈی سمیت مختلف اضلاع میں اثاثوں اور آمدن کے ذرائع کو متعلقہ تحصیلوں میں تقسیم کرنے کا انتظامی عمل شروع کرنے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ دوسری جانب اگست میں ڈسٹرکٹ کونسلوں کے فنڈز منجمد ہونے کے بعد جاری ترقیاتی منصوبوں پر بھی اثر پڑا۔ راولپنڈی ڈسٹرکٹ کونسل کی 286 ترقیاتی سکیموں میں سے صرف تکمیل کے آخری مراحل میں پہنچنے والی سکیموں کو جاری رکھنے کی اجازت دی گئی جبکہ دیگر ترقیاتی اور گرانٹ فنڈز نئی تحصیل کونسلز کے کنٹرول میں منتقل کئے جانے لگے۔محکمہ بلدیات کے جاری کردہ قواعد و ضوابط سے بھی واضح ہے کہ پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کے تحت انتظامی ڈھانچے کی تشکیل اور متعلقہ قواعد کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ نئی لوکل گورنمنٹس سے متعلق متعدد قواعد 2026 میں جاری یا ترمیم کیے گئے ہیں۔ بلدیاتی حلقوں میں اصل توجہ اب اس امر پر ہے کہ سابق ڈسٹرکٹ کونسلوں کی مجموعی جائیداد، اثاثہ جات، فنڈز، آمدن کے ذرائع اور جاری منصوبوں کی تحصیل وار تقسیم کس بنیاد پر مکمل کی جاتی ہے اور اس عمل میں زیر التوا اثاثوں و مالی ذمہ داریوں کا حتمی فیصلہ کب ہوتا ہے۔ نئے بلدیاتی اداروں کی تشکیل کے ساتھ وسائل کی منتقلی مکمل نہ ہونے کی صورت میں انتظامی اختیارات اور مالی وسائل کے استعمال میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔