جماعت اسلامی کا مارچ موخر ،حکومت سے مذاکرات کیلئے PTI کمیٹی قائم

ملتان (بیورو رپورٹ) جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی درخواست پر لانگ مارچ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک موخر کر دیا ،ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کےخلاف ملک گیر دھرنے ،احتجاجی کیمپ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا عوام کو ریلیف دینے کا آخری موقع فراہم کررہے ہیں،وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست اور لیوی معاملے کا کوئی نہ کوئی حل نکالنے کے وعدے پر چند روز کےلئے اسلام آباد کی جانب روانگی میں چند دن وقفہ دینے کا فیصلہ کیا ،وزیراعظم نے کہا وطن واپسی پر پہلی فرصت میں جماعت اسلامی کی قیادت سے ملکر لیوی مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکالیں گے،امیر جماعت اسلامی نے کہا وزیراعظم سے ملاقات میں پٹرولیم لیوی ختم نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد مارچ کا فوری آغاز ملتان ہی سے ہوجائےگا،پٹرول پر 50ارب کا نام نہاد ریلیف ناکافی ،عوام سے وصول کی جانےوالی 1567ارب کی لیوی سے چھ گنا کم اور صرف نمائشی اقدام ہے، قیادت سے طویل مشاورت کے بعد حکومت کو آخری موقع فراہم کیا،کارکن میدان میں موجود اور پوری طرح تیار رہیں گے، دھرنوں ، احتجاجی کیمپوں کے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو حالات کی ذمہ دار حکومت ہوگی،حافظ نعیم الرحمن نے کہاوزیراعظم کو بتادیا جماعت اسلامی کا واحد مطالبہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے، پی ٹی آئی احتجاج کی حمایت ،کریک ڈاون کی مذمت کرتی ہے، حکومت علامہ راجہ ناصر عباس کی جانب سے دی گئی تجویز کو سنجیدگی سے لے اور پی ٹی آئی سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالے،امیر جماعت اسلامی نے کہاپٹرولیم قیمتوں کی وجہ سے ملک میں بدترین صورتحال ،اپنے احتجاج سے دستبردار نہیں ہوں گے، کارکنوں کا جذبہ دیکھ لیں، رکنے والے نہیں،دھرنے جاری رہیں گے، ملتان میں پڑا ﺅ ہے،وزیراعظم نے ریلیف دیا تو ٹھیک ورنہ لانگ مارچ جاری رہے گا، ملتان میں پڑاو ہے، ریلیف نہ ملنے کی صورت میں آگے بڑھےں گے۔

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے علامہ ناصر عباس کی مذاکرات کی بات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاحکومت سے بات چیت کیلئے کمیٹی قائم کردی،وزیراعظم اپنی کمیٹی بنائیں ،پر امن ہیں، پرامن رہیں گے،اسلام آتے ہوئے ہاتھ میں پاکستان کے جھنڈے ہوں گے ،تشدد پر اکسانا چاہیے نہ تشدد ہونا چاہیے، گرفتاریوں کا سلسلہ بند ،اراکین پارلیمنٹ کو رہا کیا جائے،صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہامعاملات بہتری کی طرف لےجانے کیلئے مفاہمت کا راستہ کبھی بند نہیں کیا،انصاف نہ ملے ،بات نہ سنی جائے، مطالبات ایڈریس نہ ہوں تو احتجاج نہ کرنے کا مطالبہ کیسے کیا جا سکتا ہے،عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہو ملاقاتوں وعلاج کے معاملات حل نہ ہوں تو حالات کیسے بہتر ہوں گے، جمہوری معاشروں میں بہتری زبانی دعووں نہیں ،عملی اقدامات سے آتی ہے، ریاست سنجیدہ ہے تو عملی اقدامات کرے، محسوس ہونا چاہیے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی نے کہااحتجاج پرامن،اسلام آباد ضرور آئیں گے،لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا ،سٹال لگے ہوں گے، میلے کا سماں ہوگا،ریاست کو اپنے اقدامات پر نظرثانی کرنی چاہیے، موجودہ صورتحال سے ریاست ،جمہوریت کو نقصان ہوگا،عوام کے راستے میں رکاوٹیں نہیں ہونی چاہئیں،بنیادی مطالبات پر پیشرفت ہونے تک سیاسی جدوجہد جاری رہے گی،چیئرمین پی ٹی آئی نے کہامذاکراتی کمیٹی میں محمود اچکزئی، علامہ راجہ ناصرعباس،اسد قیصر اور میں شامل ہوں، کمیٹی لانگ مارچ کے دوران بھی اسلام آباد میں موجود ہوگی،بات چیت کی ضرورت ہوئی تو کریں گے،دریں اثناچیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود اچکزئی سے ملاقات کی،ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، اپوزیشن جماعتوں کے باہمی تعاون اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی گئی،اپوزیشن اتحاد نے علیمہ خان، عظمیٰ خان ،نورین نیازی سمیت سیاسی رہنماوں و کارکنوں کو ہراساں کرنے اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں کےخلاف جاری اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہامارچ مکمل طور پر پرامن ،جمہوری و آئینی حقوق کےلئے ہوگا۔