لاہور کالج ویمن یونیورسٹی میں ”اقبال کارنر“ قائم کردیا گیا

لاہور (خبرنگار+ کامرس رپورٹر) لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں اپنی نوعیت کا پہلا ”اقبال کارنر“ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں قائم کر دیا گیا، جس کا مقصد شاعر مشرق علامہ اقبال کے افکار، فلسفہ خودی، فکری ورثے اور قومی شعور کو نئی نسل، بالخصوص طالبات، تک مو¿ثر انداز میں منتقل کرنا ہے۔افتتاحی تقریب میں وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات، معروف کاروباری شخصیت فہیم الرحمن سہگل، وائس چانسلر لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی، کنونیئر اکیڈمیا انڈسٹری لنکیج کمیٹی لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عمر سلیم سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔ دیگر معزز مہمانوں میں ڈاکٹر (ر) وحید الرحمن، انٹرنیشنل اقبال اکیڈمی کے مسٹر عمر رضا اور اعجاز سندھو بھی شامل تھے۔ یونیورسٹی کی سینئر مینجمنٹ، فیکلٹی ممبران اور طالبات نے تقریب میں بھرپور شرکت کی۔ تقریب کی میزبانی پبلک ریلیشنز آفیسر لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر منیبہ افتخار نے کی۔وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے اقبال کارنر کے قیام کو طالبات کی علمی اور فکری تربیت کیلئے ایک اہم اقدام قرار دیتے ہوئے وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب سرکاری جامعات میں طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول، جدید ٹیکنالوجی اور ضروری سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے تعلیمی وژن اور ہونہار سکالرشپ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طالبات کو جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے کے بھرپور مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں۔ رانا سکندر حیات نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کیلئے جدید روبوٹکس لیب ایک خصوصی تحفہ ہے اور اس منصوبے پر عملی کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روبوٹکس لیب طالبات کو جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور عملی مہارتوں کے نئے مواقع فراہم کرے گی۔طالبات کیلئے بہتر ماحول اور سہولیات کے حوالے سے وزیر تعلیم نے یونیورسٹی کو دو ایئر کنڈیشنرز فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سرکاری شعبے کے تعلیمی اداروں میں ایئر کنڈیشننگ عمومی روایت نہیں، تاہم طالبات کی ضرورت اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کو یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔وزیر تعلیم نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کی جانب سے یونیورسٹی میں طالبات کیلئے سہولیات، کیفے ٹیریا اور مجموعی تعلیمی ماحول میں بہتری کے اقدامات کو بھی خصوصی طور پر سراہاانہوں نے شعبہ آرکیٹیکچر کی بحالی اور ترقی میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دسمبر میں دوبارہ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کا دورہ کریں گے اور شعبہ آرکیٹیکچر سے متعلق پیشرفت اور مستقبل کے منصوبوں کا جائزہ لیں گے۔معروف کاروباری شخصیت فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ خواتین یونیورسٹی میں اپنی نوعیت کے اس منفرد اقبال کارنر کا آغاز لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سے ہونا ایک اہم سنگ میل ہے اور اس کا کریڈٹ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے، جنہوں نے اس تصور کو عملی شکل دی۔انہوں نے اقبال کارنر کے قیام میں تعاون کو باعث اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال کے افکار کو نئی نسل تک پہنچانا قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی طالبات، ان کے کاروباری آئیڈیاز اور تخلیقی منصوبوں کو قومی اور بین الاقوامی کاروباری سطح تک لے جانے میں تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے صنعت اور اکیڈمیا کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے، طالبات کو کاروباری دنیا کے عملی تقاضوں سے روشناس کرانے اور انہیں قومی و بین الاقوامی کاروباری مواقع سے جوڑنے کیلئے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ اقبال کارنر کا قیام اس وڑن کی عملی شکل ہے جس کے تحت لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی اپنی طالبات کو معیاری تعلیم کے ساتھ پاکستان کے عظیم مفکرین کے علمی، فکری اور قومی ورثے سے بھی جوڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی ترجیح صرف تدریس تک محدود نہیں بلکہ طالبات کو ایسا سازگار ماحول اور سہولیات فراہم کرنا بھی ہے جہاں وہ تعلیم، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ اور تخلیقی شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لا سکیں۔وائس چانسلر نے حکومت پنجاب اور وزیر تعلیم کے تعاون کو سراہتے ہوئے سیکریٹری ہائر ایجوکیشن کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یونیورسٹی کی ترقی، ادارہ جاتی بہتری اور طالبات کیلئے سہولیات کی فراہمی میں محکمہ ہائر ایجوکیشن کا تعاون قابل قدر ہے۔ کنونیئر اکیڈمیا انڈسٹری لنکیج کمیٹی لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عمر سلیم نے نوجوانوں کو پاکستان کی ترقی کا اصل سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہStudents are our re line. یہ ملک ہمارا ہے اور ہمارا ملک ہمارے اپنے نوجوانوں کے ساتھ ہی ترقی کریگا۔ انہوں نے کہا کہ صنعت اور جامعات کے درمیان مضبوط روابط کے ذریعے نوجوانوں، بالخصوص طالبات، کو انٹرپرینیورشپ، جدید ٹیکنالوجی، عملی کاروباری تربیت اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔اس موقع پر ایک ہزار اسٹارٹ اپس کی معاونت اور فروغ کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا تاکہ نوجوانوں کے کاروباری تصورات کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے، انہیں مارکیٹ سے جوڑنے اور نئی نسل کیلئے پائیدار کاروباری مواقع پیدا کرنے میں معاونت کی جا سکے۔اقبال کارنر کی انچارج ڈاکٹر حفصہ بتول نے اقبال کارنر کے قیام میں تعاون پر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اس کارنر کو محض ایک افتتاحی منصوبے تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اسے ایک پائیدار، فعال اور مستقل علمی ماڈل کے طور پر آگے بڑھایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سے وابستہ بیس ہزار سے زائد طالبات کیلئے اقبال کارنر کو قابل عمل اور مو¿ثر رکھا جائے گا اور یہاں علامہ اقبال کی فکر، شاعری، فلسفے اور قومی وژن سے متعلق علمی، تدریسی، تحقیقی اور فکری سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا۔اقبال کارنر کو ایک ایسے سنٹر آف اقبال کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے جہاں طالبات علامہ اقبال کی شاعری، فلسفہ خودی، فکری میراث، قومی شعور اور نوجوانوں کے حوالے سے ان کے پیغام سے مربوط انداز میں استفادہ کر سکیں گی۔تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں نے اقبال کارنر کا دورہ کیا اور اسے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی علمی و فکری روایت میں ایک اہم اور منفرد اضافہ قرار دیا۔ شرکاءنے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مرکز نئی نسل میں علامہ اقبال کے پیغام خودی، علم، عمل، تخلیق اور قومی تعمیر کے جذبے کو فروغ دینے میں موثر کردار ادا کریگا۔