حکومت،اپوزیشن میں رابطہ،احتجاج منسوخ کریں،عمران سے ملاقات کرائیں،راجہ ناصر

اسلام آباد:(بیورورپورٹ)حکومت ،اپوزیشن میں اہم رابطہ،علامہ راجہ ناصر عباس نے تصدیق کردی۔

صحافی نے سوال کیا کیا آپ کی محسن نقوی سے ملاقات ہوئی؟علامہ راجہ ناصر عباس نے تصدیق کرتے ہوئے کہاملاقات میں لانگ مارچ، بانی پی ٹی آئی کے معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی ،ملاقات ان کی خواہش پر ہوئی، میں نے کسی سے درخواست نہیں کی تھی،محسن نقوی ملاقات کےلئے میری رہائش گاہ آئے ،میں سینٹ میں اپوزیشن لیڈر ہوں،ملاقات غیر فطری نہ ہی انہونی ،پی ٹی آئی کے مطالبات سب کے سامنے ہیں۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے دونوں کی ملاقات کرائی،ایک گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہنے والی ملاقات میں بیرسٹر گوہر خود بھی شریک رہے،محسن نقوی نے کہا27ستمبر کااحتجاج منسوخ کردیں، آپ لوگ وزیراعظم سے ملیں تاکہ عمران،بشریٰ کو ریلیف دیاجائے۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا مذاکرات کےلئے بانی چیئرمین سے ملاقاتوں کا سلسلہ بحال کرنا ہوگا،آپ ملاقات کرائیں تاکہ احتجاج کال آف کرنے کیلئے مشاورت کی جا سکے، محسن نقوی نے کہا احتجاج کی کال واپس لے کر دوبارہ احتجاج نہیں ہونا چاہیے،کال آف کی تو پھر کال آف ہی رکھیں گے۔

اندرونی کہانی کے مطابق احتجاج کی کال واپس لینے پر بشریٰ کو بنی گالہ منتقل کرنے پر بھی بات ہوسکتی ہے، علامہ راجہ ناصر عباس نے محمود اچکزئی سے بھی محسن نقوی کی ٹیلی فون پر بات کرائی۔

دریں اثنا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا اہم وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان کا نظام منہدم ،معاشی و عدالتی نظام مکمل تباہ ہو چکا،ٹیکس ،عوام کے پیسوں سے جہاز استعمال کرنا غلط ،پمز میں پیش آنے والا واقعہ ملک میں خرابیوں کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔

سینٹ میں اپوزیشن لیڈر نے کہاایمان مزاری ، ہادی چٹھہ کو رہائی حکم کے باوجود گرفتار کیا گیا، ایمان مزاری کے گلے میں ہار ڈالنا چاہیے وہ آواز بلند کرتی ہیں،آپ صوبے بنانے کا نیا قدم اٹھا رہے ہیں، کوئی اعتماد نہیں کرتا۔

دریں اثنا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی اپوزیشن لیڈرز محمود اچکزئی ،علامہ ناصر عباس سے اہم ملاقات ہوئی،27 ستمبر کی کال ،آئندہ کے لائحہ عمل ،سیاسی حکمت عملی ،جمہوری جدوجہد کو موثر انداز میں آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال ،27 ستمبر کی کال کو آئین کی بالادستی ، جمہوری حقوق کے تحفظ کےلئے منظم سیاسی جدوجہد کے طور پر آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا،صوبوں کے حقوق ،عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کےلئے 27 ستمبر کی کال کو مو¿ثر اور منظم انداز میں آگے بڑھانے پر بھی مشاورت کی گئی۔