لاہور (خبرنگار) وزیراعلیٰ پنجاب کی کفایت شعاری مہم کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بلدیہ عظمیٰ لاہور کے شعبہ ریگولیشن نے صریحاً بغاوت کا علم بلند کر دیا ہے۔ ایک طرف وزیراعلیٰ صوبے میں مالی ڈسپلن اور بچت کا درس دے رہی ہیں تو دوسری جانب ایم سی ایل کے افلاطونوں نے وزیراعلیٰ کے ”تجاوزات سے پاک پنجاب“وژن کو اپنی ناجائز کمائی اور شاہ خرچیوں کی لامتناہی بہتی گنگا بنا رکھا ہے۔ شہر سے تجاوزات کے خاتمے کا ڈھونگ رچا کر تمام آپریشنل گاڑیوں کیلئے ماہانہ لگ بھگ ایک کروڑ روپے کا پٹرول مختص کرایا جاتا ہے لیکن اس گرانقدر سرکاری ایندھن میں سے تقریباً 10 ہزار لیٹر پٹرول شعبہ ریگولیشن میں بیٹھی بلائیں خاموشی سے پی جاتی ہیں۔ ذرائع کا سنسنی خیز دعویٰ ہے کہ یہ بیش قیمت ایندھن مبینہ طور پر ایم او آر اور ان کے وہ دو طاقتور مشیران ہڑپ کر جاتے ہیں جنہیں پورے شہر میں من مانی اور ”بدمعاشی“ کی کھلی چھوٹ دے رکھی گئی ہے۔ دستاویزی حقائق کے مطابق ریگولیشن ونگ کے پاس تجاوزات ہٹانے کیلئے 40 کے قریب بڑی مشینری موجود ہے اور ہر گاڑی کو ماہانہ 600 لیٹر پٹرول دستیاب ہے۔ تاہم اصل کھیل یہ ہے کہ ان میں سے صرف 15 ٹرک ہی بمشکل روزانہ فیلڈ میں جاتے ہیں جبکہ باقی صرف پٹرول کے پیسے حاصل کرنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ سرکاری ریکارڈ میں جن 7 ٹرکوں کو واضح طور پر ”کھڑے“ یعنی غیر فعال ظاہر کیا گیا ہے، انکا ایندھن بھی انہی ”نویکلے ڈکیتوں“کی نذر ہو رہا ہے۔ ”مشرق“ کو موصول ہونے والے معتبر دستاویزی ریکارڈ کے مطابق ریگولیشن ونگ کی تحویل میں کل 31 ٹرک تہہ بازاری، 6 ٹرک ”کتا مار مہم“اور 2 ایکسیویٹر شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ کے احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے شعبہ ریگولیشن کی اس لوٹ مار، شاہ خرچیوں اور مبینہ بدعنوانی نے بلدیہ عظمیٰ کی کارکردگی پر سیاہ دھبہ لگا دیا ہے جہاں تجاوزات کا خاتمہ ایک نفع بخش کاروبار اور سرکاری خزانے پر ڈاکے کا مستقل ذریعہ بن چکا ہے۔
کفایت شعاری مہم کی دھجیاں، بلدیہ عظمیٰ ملازمین کا علم بغاوت، ناجائز کمائی



















