سرکلر گارڈن فیز ٹو میں واسا کی پہلے بچھائی گئی لائنیں دوبارہ اکھاڑنے کا فیصلہ

لاہور (اپنے نمائندے سے) سرکلر گارڈن فیز ٹو میں واسا کی پہلے بچھائی گئی لائنیں دوبارہ اکھاڑنے کا فیصلہ، قومی خزانے پر 2 ارب 15 کروڑ کا نیا بوجھ، اندرون شہر میں ترقیاتی کاموں کی ناقص منصوبہ بندی سرکلر گارڈن فیز ٹو اپ گریڈیشن منصوبے کے تحت واسا کی موجودہ واٹر سپلائی اور سیوریج لائنوں کو دوبارہ اکھاڑ کر منتقل کرنے کیلئے 2 ارب 15 کروڑ روپے کا تخمینہ۔حکومت کا لاہور کی تاریخ ورثہ کو اپ گریڈ کرنے کی منصوبہ بندی کے تحت شہر کے مختلف مقامات کو اپ گریڈ کرنے پر کام جاری ہے۔ اس حوالے سے اندرون شہر میں کی بحالی کی خاطر سڑکوں اور گلیوں کو بہتر کرنے کی خاطر ایل ڈی کی ایجنسی ٹیپا منصوبہ پر کام کر رہی ہے جس میں فٹ پاتھس بھی اپ گریڈ کئے جا رہے ہیں اس اپ گریڈیشن کے باعث واٹر سپلائی اور سیور لائن کی منتقلی اور لفٹ سٹیشن کی تنصیب بھی کی جا رہی ہے جبکہ اسی علاقے میں چند سال قبل ہی اربوں روپے کی لاگت سے یہی لائنیں بچھائی گئی تھیں۔5.6 کلومیٹر منصوبہ، زد میں واسا کی تنصیبا ت سرکاری ریکارڈ کے مطابق سرکلر گارڈن فیز ٹو اردو بازار سے شروع ہو کر شاہ عالم مارکیٹ، ایک موریہ پل، دو موریہ پل، شاہی قلعہ، ٹکسالی گیٹ اور بھاٹی گیٹ سے ہوتا ہوا دوبارہ اردو بازار تک جائے گاتقریباً 5.6 کلومیٹر طویل منصوبے کی بنیادی ذمہ داری ٹیپا کو سونپی گئی ہے۔ ٹیپا ذرائع کے مطابق نئے روڈ ڈیزائن، فٹ پاتھ، گرین بیلٹس اور لینڈ سکیپنگ کے باعث واسا کی کئی موجودہ تنصیبات منصوبے کی الائنمنٹ میں آرہی ہیں، جس کیلئے یوٹیلیٹی شفٹنگ ناگزیر ہے ان علاقہ میں پہلے ہی ترقیاتی کام ہوچکا ہے جس میں :بھاٹی گیٹ تا کٹری حاجی اللہ بخش شیخاں منصوبے پر 1 ارب 73 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جس میں سیوریج لائنوں کی تنصیب بھی شامل تھی، تاہم منصوبہ 2024 تک مکمل نہ ہوسکاریلوے اسٹیشن، بھاٹی گیٹ، مصری شاہ، بادامی باغ کوریڈور کیلئے 4 ارب روپے مختص کیے گئے، جس میں سے 2 ارب روپے کے اجرا میں تاخیر رہی انہیں علاقوں میں واسا کی یوٹیلیٹی شفٹنگ کیلئے تیار کیے گئے ابتدائی PC-1 میں 2 ارب 15 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جس میں:8 سے 12 انچ کی واٹر سپلائی لائنیں15 سے 24 انچ کی سیوریج لائنیں3 نئے لفٹ سٹیشنز / پمپ ہاوسز کی تعمیر شامل ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ "ٹیپا کے نئے روڈ لیول کے بعد پرانی لائنوں کا گریویٹی فلو متاثر ہو رہا ہے۔ بارشوں میں والڈ سٹی میں پانی کھڑا ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے، اسلئے شفٹنگ تکنیکی طور پر ضروری ہے ذرائع کے مطابق ڈی جی ایل ڈی اے اور کمشنر لاہور کی سربراہی میں ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے یوٹیلیٹی شفٹنگ کی اصولی منظوری دیدی ہے۔ واسا حکام کا کہنا ہے کہ والڈ سٹی کے اندر کئی سیوریج لائنیں 30 سے 40 سال پرانی ہیں۔ بھاٹی گیٹ، شاہ عالم اور اردو بازار میں تجاوزات اور غیر قانونی کنکشنز کے باعث لائنوں کی گہرائی متاثر ہوئی ہے۔