پشاور: (بیورورپورٹ) پشاور ہائیکورٹ نے کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کےخلاف درخواستیں20اکتوبر کو سماعت کیلئے مقرر کردیں۔
بیرسٹر گوہر ،سلمان خان ایڈووکیٹ نے الگ الگ درخواستوں میںوفاقی و صوبائی حکومت و دیگر حکام کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیادہشتگردی کو بنیاد بنا کر منتخب صوبائی حکومت کےخلاف کارروائی امتیازی سلوک ہے، بلوچستان میں دہشتگردی ، جانی نقصانات کے باوجود گورنرراج نافذ نہیں کیا گیا، دہشتگردی کو جواز بنا کر کے پی میں پی ٹی آئی حکومت کے اختیارات ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔
درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا گورنر راج کے نفاذ کیلئے آرٹیکل 234 کے تقاضوں ،طریقہ کار پر عمل ضروری ہے، ایمرجنسی کے نفاذ کو بھی آرٹیکل 232 ،متعلقہ پارلیمانی تقاضوں کے مطابق جانچا جائے، مذاکرات کی ناکامی کو پی ٹی آئی کےخلاف جواز بنایا جا رہا ہے۔
بیرسٹر گوہر ،سلمان خان ایڈووکیٹ کہالانگ مارچ کے دوران غیرقانونی اقدام کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی، آئینی و جمہوری احتجاج کو امن و امان کیلئے خطرہ قرار دےکر منتخب حکومت معطل کرنا قابل سوال،ایمرجنسی ،گورنر راج کا نفاذ غیرآئینی، غیرقانونی ،بدنیتی پرمبنی ،عوام کے بنیادی حقوق ،جمہوریت کے مینڈیٹ کےخلاف ہے،اقدام کو کالعدم و غیرقانونی قرار اور درخواست کے حتمی فیصلے تک گورنر راج کے اعلامیے کو معطل کیاجائے۔
کے پی میں گورنر راج ،ایمرجنسی کیخلاف درخواستیں20اکتوبر کو سماعت کیلئے مقرر



















