معیشت میں بہتری، مہنگائی کنٹرول، آئی ایم ایف ،پاکستان میں سٹاف لیول معاہدہ

اسلام آباد:(بیورورپورٹ) آئی ایم ایف ،پاکستان میں سٹاف لیول معاہدہ ،ایک ارب 20 کروڑ ڈالرز قسط ملنے کی راہ ہموار ہو گئی،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے تحت تقریباً 1 ارب ڈالرز ، لچک اور پائیداری سہولت کے تحت 210 ملین ڈالرز تک رسائی حاصل ہو گی۔

آئی ایم ایف اعلامیے کے مطابق معیشت میں بہتری، مہنگائی اور کرنٹ اکاونٹ کنٹرول میں ہے، مشرق وسطیٰ کشیدگی سے معیشت کو خطرات لاحق ہیں، ٹیکس نظام بہتر بنانے کےلئے اصلاحات جاری ہیں، غریب عوام کےلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع کی گئی ، مہنگائی کے اثرات کم کرنے کےلئے امداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، سٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کےلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا، ضرورت پڑنے پر شرح سود مزید بڑھائی جا سکتی ہے، نئی قسط ملنے سے پاکستان کو ملنے والی رقم 4.5 ارب ڈالرز ہو جائے گی، پاکستان کی معیشت میں بہتری آئی ، مارکیٹ اعتماد بحال ، مہنگائی اور کرنٹ اکاونٹ خسارہ قابو میں رہا، زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ اور معاشی استحکام بہتر ہوا، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاو مہنگائی بڑھا سکتا ہے، پاکستان کا مالی سال 2026 میں 1.6 فیصد پرائمری سرپلس کا ہدف ، مالی سال 2027 میں سرپلس 2 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان پر ٹیکس نیٹ بڑھانے ،اخراجات کنٹرول کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا پاکستان نے صحت، تعلیم، سماجی تحفظ پر اخراجات بڑھانے کا فیصلہ کیا ، ایف بی آر اصلاحات پر عملدرآمد شروع ہونے سے مثبت نتائج سامنے آنے لگے، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی بوجھ کی منصفانہ تقسیم پر کام جاری ہے، غربت میں کمی، سماجی تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں، نقد امداد میں اضافہ، ادائیگی نظام بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، صحت و تعلیم کے بجٹ میں اضافے کا حکومتی عزم برقرار ہے۔

اعلامیے کے مطابق سرکاری اداروں کی اصلاحات اور نجکاری اہم ترجیح ، پاکستان نے مارکیٹ میں حکومتی مداخلت کم کرنے کا عندیہ دید یا ، بدعنوانی کےخلاف اقدامات اور سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششیں کر رہا ، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کےلئے حکومتی اقدامات تیز کیے جائیں گے۔

آئی ایم ایف نے گرین ٹرانسپورٹ و کاربن اخراج میں کمی پر زور دیتے ہوئے کہا پانی کے نظام کی بہتری اور آفات سے نمٹنے کےلئے مالی نظام کی تیاری جاری ہے، پاکستان میں موسمیاتی اہداف کے مطابق توانائی اصلاحات جاری ہیں، این ایف سی فارمولہ کے تحت منصفانہ تقسیم کی جائے،ایف بی آر ٹیکس دہندگان کے آڈٹ نظام کو مزید مضبوط بنانے کی حکمت عملی تیار کرے،ڈیجیٹل انوائسنگ، پیداوار مانیٹرنگ کے نظام کو وسعت دی جائے۔

اعلامیے کے مطابق وفد نے کراچی اوراسلام آباد میں مذاکرات کیے،37 ماہ کے ای ایف ایف پروگرام کا تیسرا ،موسمیاتی پروگرام آر ایس ایف کادوسرا جائزہ بھی مکمل کرلیا گیا،دونوں جائزوں کی حتمی منظوری آئی ایم ایف بورڈ دے گا۔