چھوٹے کاروبار ایران، امریکہ جنگ سے زیادہ متاثر ہوئے: فلاحت عمران

لاہور (انٹرویو: نعیم جاوید/ عکا سی: واحد شہزاد) حالیہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور جنگی صورتحال نے جہاں عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے وہیں پاکستان میں خواتین کاروباری طبقہ بھی شدید مشکلات سے دوچار ہو گیا ہے۔ ویمن چیمبر آف کامرس کی صدر فلاحت عمران نے روز نامہ ”مشرق“ لاہور سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگی حالات کے باعث سب سے زیادہ اثر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار پر پڑا ہے جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔ ان کے مطابق خام مال کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، شپنگ اخراجات میں کئی گنا اضافہ اور بین الاقوامی ادائیگیوں کے نظام میں رکاوٹیں پیدا ہونے سے خواتین کاروباری افراد کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔فلاحت عمران کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خواتین کاروباری افراد پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور ایسے حالات میں عالمی سطح پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ان کیلئے مزید مشکلات کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ٹیکسٹائل، ہینڈی کرافٹس، جیولری اور فیشن انڈسٹری سے وابستہ خواتین کو بیرون ملک سے ملنے والے آرڈرز میں کمی اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ کئی معاہدے منسوخ بھی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی اور مشرق وسطیٰ کی مارکیٹس میں خریداروں نے محتاط رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات کی طلب متاثر ہوئی۔اےک سوال کے جواب مےںانہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو مالیاتی شعبے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ بینکوں سے قرضوں کے حصول اور کاروباری سہولیات تک رسائی پہلے ہی محدود ہے۔ جنگی صورتحال کے باعث سرمایہ کاری میں کمی آئی اور کاروباری سرگرمیاں سست روی کا شکار ہوئیں۔ فلاحت عمران کے مطابق پاکستان میں خواتین کی ملکیت میں کاروباروں کی شرح انتہائی کم ہے اور برآمدات میں ان کا حصہ بھی نہایت محدود ہے، جس کی وجہ سے کسی بھی عالمی بحران کا سب سے زیادہ اثر اسی طبقے پر پڑتا ہے۔حکومتی اقدامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے خواتین کاروباری افراد کیلئے کچھ فنانسنگ اسکیمز اور تربیتی پروگرامز متعارف کروائے ہیں، تاہم یہ اقدامات ابھی تک محدود سطح تک ہی مو¿ثر ثابت ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں خواتین کیلئے خصوصی ریلیف پیکیجز، ٹیکس میں رعایت اور برآمدی سہولیات میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت تھی جو خاطر خواہ انداز میں فراہم نہیں کی جا سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی سازی میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ کر حل کیا جا سکے۔فلاحت عمران نے کہا کہ وویمن چیمبر آف کامرس اس وقت اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے نئی منڈیوں کی تلاش پر توجہ دے رہا ہے، خاص طور پر یورپی ممالک میں پاکستانی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق جرمنی، فرانس، اٹلی اور نیدرلینڈز ایسی مارکیٹس ہیں جہاں پاکستانی ہینڈی کرافٹس، لیدر مصنوعات اور ٹیکسٹائل کی مانگ موجود ہے اور خواتین کاروباری افراد ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر کی جانب سے مختلف تجارتی وفود اور بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کے ذریعے خواتین کو عالمی سطح پر متعارف کروایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی خواتین کاروباری افراد کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہ براہ راست اپنے صارفین تک پہنچ سکیں۔ ان کے مطابق ای کامرس کے فروغ سے خواتین کیلئے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور وہ محدود وسائل کے باوجود اپنی مصنوعات کو عالمی سطح پر فروخت کر سکتی ہیں۔پاکستانی مصنوعات کی کھپت اور برآمدات کے حوالے سے فلاحت عمران نے کہا کہ اگرچہ خواتین کے حوالے سے مکمل اور مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں، تاہم وویمن چیمبرز کے پلیٹ فارم کے ذریعے ہزاروں خواتین کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور بالواسطہ طور پر ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل، ہینڈی کرافٹس اور فیشن انڈسٹری میں خواتین کی شمولیت اربوں روپے کے کاروبار کا حصہ ہے اور اگر انہیں مناسب سہولیات فراہم کی جائیں تو یہ حجم مزید بڑھ سکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کاروباری افراد کیلئے تربیت، مالی معاونت اور مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنایا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر مسابقت کر سکیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں وویمن چیمبر کا بنیادی فوکس خواتین کو خودمختار بنانا، ان کی کاروباری صلاحیتوں کو بڑھانا اور انہیں عالمی مارکیٹ سے جوڑنا ہے۔فلاحت عمران نے کہا کہ اگر حکومت، نجی شعبہ اور وویمن چیمبرز مشترکہ حکمت عملی اپنائیں تو خواتین کاروباری افراد نہ صرف موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہیں بلکہ پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ بھی کر سکتی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں خواتین کیلئے کاروباری ماحول مزید بہتر بنایا جائے گا جس سے ملکی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔