جنگ بندی ،معاشی بچت،عوام کو ریلیف ترجیح وفاق ، صوبے کم اہم منصوبوں کو روکیں،وزیراعظم

اسلام آباد: (بیورورپورٹ)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے پاکستان بھی ایران جنگ سے بہت متاثر ،معاشی مشکلات کا سامنا ،جنگ بندی ،معاشی بچت،عوام کو ریلیف فراہم کرنا ترجیح ،چیلنجز سے نمٹنے،سیاسی استحکام کیلئے قومی یکجہتی، اتحاد و اتفاق کی ضرورت اب اشرافیہ کو قربانی دینا ہو گی، وفاق ،صوبے کم اہم منصوبوں کو روکیں تاکہ عام آدمی کا تحفظ کیا جا سکے، کفایت شعاری کرکے فنڈز جمع کرنا ہوں گے،ان خیالات کااظہار انہوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا ، چاروں صوبوں ،گلگت بلتستان کے وزرا ئے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر ،چیئرمین پیپلز پارٹی نے بھی شرکت کی۔

شہبازشریف نے کہا خطے میں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ،شہادتوں پر بہت افسوس ہے، اپنے تعزیتی پیغامات مختلف اوقات میں جاری کئے، جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کیلئے پاکستان نے مخلص دوست اور برادر ملک کے طور پر بھرپور کوششیں کیں،اسحاق ڈار نے ایرانی ودیگر ممالک کے ہم منصب سے کئی مرتبہ تبادلہ خیال کیا،بازو پر چوٹ کے باوجود چین گئے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا پاکستان جنگ بندی کرانے کیلئے اب بھی کوششیں کررہاہے،کامیابی حاصل ہو گی،ملکی معیشت کو میکرو سطح پر مستحکم بنا دیا ،ترقی و خوشحالی کا وقت لیکن بدقسمتی سے جنگ کی وجہ سے معاشی طور پر بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے، نائب وزیراعظم ،فیلڈ مارشل کی کاوشوں سے 2بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ،پاکستانی پرچم بردار مزید 20 بحری جہازوں کو بھی آبنائے ہرمز سے گزارنے کا انتظام کیا گیا، آئندہ چند دنوں میں پیشرفت ہو گی جب جنگ کا خطرہ منڈلا رہا تھا تو میں نے مختلف اجلاس منعقد کئے ،ٹیم نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے ملاقاتیں کیں ،تمام صورتحال سے آگاہ کیا، پہلے ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے کا اضافہ کرنا پڑا،محنتی کسانوں، مزدوروں اور دکانداروںنے بے پناہ معاشی بوجھ برداشت کیا۔

شہبازشریف نے کہا اجتماعی و بھرپور کاوشوں سے بروقت صورتحال کا ادراک کیا ،اقدامات اٹھائے، کابینہ اراکین نے اپنی 2 ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا، تیل کی کھپت میں 50 فیصد کٹوتی کی گئی، اراکین پارلیمنٹ نے بھی حصہ ڈالا، تیل کی بچت کیلئے 60 فیصد گاڑیوں کا استعمال بند کر دیا ،صدر زرداری،بلاول بھٹو زرداری کے شکرگزار ہیں معاملے میں خصوصی دلچسپی لی، وفاقی حکومت نے 3 ہفتوں میں 129 ارب دیئے ، پی ایس ڈی پی میں 100 ارب کی کٹوتی کی گئی ،تمام اخراجات وفاق نے برداشت کئے۔

وزیراعظم نے کہا وقت آ گیا ہے سب ملکر تعاون کریں، بھرپور تعاون کی یقین دہانی پرتمام وزرائے اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہیں، قومی یکجہتی اتحاد و اتفاق کے بغیر کوئی بھی قوم اتنے بڑے چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتی،عام آدمی و غریب طبقے کا تحفظ کرنا ہے، اشرافیہ کو ایثار ،قربانی کا مظاہرہ کرنا چاہئے،وفاق ، صوبے کم اہم منصوبوں کو روکیں،بچت کرکے رقم عام آدمی اور غریب آدمی کے تحفظ پر خرچ کرنے چاہیے۔

شہبازشریف نے کہا سیاسی استحکام سے ہی معاشی استحکام ممکن ،سب سے زیادہ توجہ کمزور طبقے ، زرعی شعبے کے تحفظ پر دینے کی ضرورت ہے، گندم کی کٹائی کا کام شروع ہونے والا ،ڈیزل ،پٹرول کی ضرورت ہے، فصلوں کی بوائی کیلئے بھی ڈیزل کی ضرورت ہو گی، عام آدمی کو مہنگائی سے بچانے کیلئے پبلک و گڈز ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی بچانا ہو گا تاکہ عام آدمی پر بوجھ نہ پڑے، ملکر اور کفایت شعاری کرکے فنڈز جمع کرنا ہوں گے۔