لبنان نے اسرائیلی حملے رکوانے کیلئے پاکستان سے تعاون مانگ لیا

اسلام آباد:(بیورورپورٹ)لبنان نے اسرائیلی حملے رکوانے،جنگ بندی میں شامل کرانے کیلئے پاکستان سے تعاون مانگ لیا۔

وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف ، لبنانی وزیراعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، شہباز شریف نے اسرائیلی جاری جارحیت کی شدید مذمت اور لبنان میں ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاپاکستان علاقائی امن کےلئے مخلصانہ کوششوں میں مصروف اسی جذبے کے تحت ایران ، امریکہ کے درمیان مذاکرات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

لبنان کے وزیراعظم نے امن کوششوں پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اپیل کی پاکستان لبنان پرحملوں کو فوری طور پر ختم کرنے کےلئے تعاون کرے،ٹیلی فونک رابطے میںدونوں رہنماوں نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق لبنانی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیانواف سلام نے ٹیلی فونک گفتگو میں پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاتصدیق کی جائے جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے تاکہ اسرائیل کے مزید حملوں کو روکا جاسکے۔

دریں اثنا ٹیلی فونک رابطے میں بحرینی بادشاہ نے ایران ،امریکہ کے درمیان جنگ بندی کرانے میں پاکستان کی کامیاب کوششوں پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا پیشرفت سے خطے میں دیرپا امن کے امکانات روشن ہوگئے۔

وزیراعظم نے امن کوششوں کی حمایت پر شاہ بحرین کا شکریہ ادا کیا اور 6ہفتوں کے دوران حملوں کے تناظر میں بحرینی قیادت کی جانب سے دکھائے گئے مثالی تحمل کو سراہا،قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا،دونوں جانب سے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کےلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیاگیا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فون کرکے ایران امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں پر مبارکباد دیتے ہوئے اسلام آباد میں ہونےوالے امن مذاکرات کی کامیابی کےلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا،وزیراعظم نے صدر میکرون کی جانب سے سفارتی کاوشوں کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے عزم کا اعادہ کیا پاکستان خطے میں امن و استحکام کےلئے کوششیں جاری رکھے گا،دونوں رہنماو¿ں نے لبنان میں جاری جارحیت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا تشدد و خونریزی کا فوری خاتمہ ضروری ہے تاکہ پورے خطے میں امن بحال کیا جاسکے۔

آسٹریا کے چانسلر کرسچن سٹوکر نے بھی فون کرکے کاوشوں کو سراہا،وزیراعظم نے بھرپور تائید و حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاثالثی کوششوں کے باعث امریکہ ،ایران کے درمیان جنگ بندی ممکن اور دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی یقینی بنی،دونوں رہنماوں نے زور دیا تمام فریقین جنگ بندی کی مکمل پاسداری کریں تاکہ کامیاب مذاکرات کے امکانات کو تقویت ملے،اقدام سے پائیدار امن و استحکام آئے گا۔

قبل ازیں آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز اور وزیر خارجہ پینی وونگ نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاسیز فائرمذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی جانب اہم پیشرفت ہے،کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے کردار کو سراہتے ہیں،امید ہے جنگ بندی برقرار رہے گی اور خطے میں دیرپا امن قائم ہوگا۔

شہباز شریف اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، امیر قطر نے پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں پر مبارکباد دی اور مخلصانہ کوششوں کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا، وزیراعظم نے حملوں کے باوجود تحمل پر قطری قیادت کی دانشمندی اور تدبر کی تعریف کی،دوران گفتگو وزیراعظم نے قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کیا اور یقین دہانی کرائی دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا پاکستان خطے میں پائیدار امن کےلئے کوششیں جاری رکھے گا۔

دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا پاکستان لبنان میں اسرائیلی حملوں سے بھاری جانی نقصان و انفراسٹرکچر تباہ ہونے کی شدید مذمت اورلبنانی حکومت و عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے ،مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے ہیں،طاہر اندرابی نے کہااسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ خطے میں جاری امن کوششوں کو نقصان بھی پہنچا رہے ہیں، پاکستان لبنانی آزادی و علاقائی خود مختاری اور امن و استحکام کی مکمل حمایت کااعادہ کرتا ہے۔

دریں اثنا پاک سعودی وزرائے خارجہ نے لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا،اسحاق ڈار ،شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہادیرپا امن و استحکام کو یقینی بنانے کیلئے جنگ بندی کے مکمل احترام و نفاذ کی فوری ضرورت ہے، اسحاق ڈار نے پائیدار امن کیلئے سعودی عرب کی مسلسل حمایت کو سراہا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس،جنوبی افریقہ کے وزیر بین الاقوامی تعلقات رونالڈ لامولاودیگر عالمی رہنماﺅں نے بھی رابطے کیے ،لبنان میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار ،مشرق وسطیٰ میں عارضی جنگ بندی کے مکمل نفاذ کی اہمیت پر زور دیا گیا،عالمی رہنماﺅں نے ٹیلی فونک رابطوں میں پاکستان کی امن و استحکام کے فروغ کےلئے کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔