لاہور (سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کرپشن سے پاک پنجاب کو محکمہ ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول پنجاب نے باہمی طور پر خود ساختہ انکوائریاں میں ماتحت ورکرز کو قربانی کا بکرا سمجھ کر سخت ترین اقدامات کی سولی چڑھا دیا ہے جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے از خود نوٹس اور ڈائریکٹر جنرل انسداد رشوت ستانی کی تحقیقات میں 6000 گاڑیوں کے جعلی واﺅچر پر محکمہ ایکسائز پنجاب کے ڈائریکٹرز سمیت 2 ای ٹی اوز، انسپکٹرز پر محکمہ انسداد رشوت ستانی کی جانب سے مقدمات درج کئے گئے تھے ، محکمہ ایکسائز کی جانب سے اس انکوائری کو سابق خاتون ڈپٹی سیکرٹری ایڈمن سحرش کی جانب سے 5 سال تک کھینچا گیا جبکہ عدلیہ کے واضح احکامات ہیں کہ کریمنل ، سول معاملات اور پیڈا ایکٹ کو فوری اور 60 یوم میں نمٹایا جائے، اسکے باوجود پانچ سال تک اس کیس کی انکوائری ہوتی رہی۔ شواہد کے ساتھ معلوم کیا گیا ہے کہ انکوائری 2 ڈائریکٹرز شاہد گیلانی اور مشتاق فریدی کے سپرد تھی اور جنہوں نے نامزد ملزمان کو ملی بھگت کے باعث انکوائری کیلئے بلایا ہی نہیں، دونوں ڈائریکٹرز انکوائری محکمہ کے ایک اعلیٰ آفیسر کے حکم پر خفیہ رپورٹ جمع کروا کر دونوں بیرون ممالک چھٹی پر روانہ ہو گئے، لیکن دونوں ڈائریکٹرز کے موبائل نمبرز پر اس انکوائری کی رپورٹ بارے موقف کیلئے رابطہ کیا گیا لیکن دونوں ڈائریکٹرز نے کال اٹینڈ نہیں کی، جبکہ اس انکوائری رپورٹ میں ایک ٹی او سمیت ڈائریکٹرز کو محفوظ رکھا جا رہا ہے اور انسپکٹر و دیگر ماتحت اہلکاروں کی جبری برخاستگی کی سفارش کی گئی ہے جبکہ ای ٹی او کی صرف 2 انکریمنٹ روکنی کی سفارش کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ ڈائریکٹر جنرل انسداد رشوت ستانی پنجاب گوہر نفیس نے محکمہ ایکسائز پنجاب کے افسران پر مقدمات درج کروائے اور حکومت پنجاب کو اس بارے میں سخت ایکشن کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ انکوائری رپورٹ سیکرٹری ایکسائز پنجاب مسعود مختار کے پاس ہے اور آج اس پر اہم فیصلے متوقع ہیں، اس رپورٹ اور سیکرٹری کے فیصلے پر بعض دیگر ادارے بھی مصروف تحقیق ہیں۔
محکمہ ایکسائز، خودساختہ انکوائریوں میں ورکرز قربانی کا بکرا


















