لاہور (مرزا ندیم بیگ) لاہور پولیس میں اندرونی احتساب کا عمل مزید تیز کر دیا گیا ہے اور کرپشن سے متعلق محکمانہ کارروائی میں سزا پانے والے 206 افسران و اہلکاروں کو ان کی موجودہ پوسٹنگز سے ہٹا کر ایسے شعبوں میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جہاں انہیں تھانوں یا براہ راست عوامی ڈیلنگ کی ذمہ داریاں نہ دی جائیں۔ دوسری جانب شہر میں چوری اور چھینے گئے موبائل فونز کے IMEI نمبرز تبدیل کرنے والے عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جامع کریک ڈاو¿ن کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔پولیس ذرائع اور ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق 206 پولیس افسران و اہلکار ایسے ہیں جن کے خلاف کرپشن سے متعلق محکمانہ کارروائی ہوئی اور انہیں سزائیں دی گئیں۔ لاہور پولیس آپریشنز ونگ نے ان اہلکاروں کی موجودہ پوسٹنگز تبدیل کرتے ہوئے انہیں تھانوں اور براہ راست شہریوں سے رابطے والی ذمہ داریوں سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں سے بعض کو جوڈیشل ونگ سمیت ایسے دیگر شعبوں میں تعینات کیا جا رہا ہے جہاں براہ راست پبلک ڈیلنگ نہ ہو۔پولیس حکام کے مطابق محکمانہ احتساب کا مقصد ایسے اہلکاروں کو حساس اور عوامی رابطے والی پوسٹوں پر تعینات نہ کرنا ہے جن کے خلاف کرپشن کے الزامات پر محکمانہ کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔ لاہور پولیس آپریشنز ونگ کی جانب سے ایسے کیسز میں مزید محکمانہ کارروائی جاری رکھنے کا بھی بتایا گیا ہے۔تاہم دستیاب تازہ ریکارڈ میں ان 206 اہلکاروں کے عہدوں، رینکس، تھانوں اور ہر کیس میں الزام یا ثبوت کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ اسی طرح دستیاب معلومات سے یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ تمام 206 اہلکار ملازمت سے ”برطرف“ کر دیے گئے ہیں۔ موجودہ اطلاعات کے مطابق انہیں محکمانہ سزاو¿ں کے بعد موجودہ عہدوں اور پوسٹنگز سے ہٹایا گیا ہے۔دوسری جانب لاہور میں موبائل فون چوری اور منظم گینگز کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کی زیرصدارت اجلاس میں کرائم ہاٹ سپاٹس کی جیو فینسنگ، اضافی نفری کی تعیناتی، پٹرولنگ میں اضافہ اور سادہ لباس اہلکاروں کے ذریعے ڈیکائے آپریشنز کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔اجلاس میں خاص طور پر چوری شدہ موبائل فونز کے IMEI نمبرز تبدیل کرنے والے عناصر کے خلاف بھرپور کریک ڈاو¿ن کا فیصلہ کیا گیا۔ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ برآمد ہونے والے چوری شدہ موبائل فونز کی بیک ٹریکنگ اور تکنیکی تجزیے کے ذریعے صرف موبائل چور تک محدود نہ رہا جائے بلکہ اس پورے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جائے جو چوری شدہ فونز خریدنے، فروخت کرنے، ان کے پرزہ جات کی غیر قانونی خریدوفروخت یا IMEI نمبرز تبدیل کرنے میں ملوث ہو سکتا ہے۔پولیس حکام نے موبائل فونز کی خریدوفروخت کے دوران شناختی دستاویزات اور ضروری ریکارڈ کی مکمل جانچ یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ چوری شدہ موبائل فونز اور اسپیئر پارٹس کی غیر قانونی خریدوفروخت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق چوری کے ہاٹ سپاٹس کی جیو فینسنگ سے ان مقامات پر موجود مشتبہ سرگرمیوں اور جرائم سے متعلق تکنیکی معلومات حاصل کرنے میں مدد لی جائے گی جبکہ انسانی انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کو بھی کارروائیوں کا حصہ بنایا جائے گا۔ رش والے مقامات، مارکیٹوں، تقریبات اور پبلک ٹرانسپورٹ میں جیب تراشی اور موبائل چوری میں ملوث عناصر کی نگرانی بڑھانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔پنجاب پولیس پہلے ہی چوری شدہ موبائل فونز کی شناخت کیلئے e-Gadget نظام استعمال کر رہی ہے جس کے ذریعے IMEI نمبر کی مدد سے موبائل فون کے چوری یا گمشدہ ہونے کی حیثیت چیک کی جا سکتی ہے جبکہ رجسٹرڈ موبائل ڈیلرز بھی خریدوفروخت سے قبل ڈیوائس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔اہم پیش رفت یہ ہے کہ 22 ستمبر تک تازہ سرکاری یا پولیس ذرائع میں نئے IMEI کریک ڈاو¿ن کے تحت مقدمات، گرفتاریوں اور موبائل فونز کی ریکوری کا مجموعی عدد جاری نہیں کیا گیا۔ اس لیے ان اعداد کو سابقہ کارروائیوں کے اعداد کے ساتھ ملا کر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ موجودہ مرحلے پر پولیس کا فوکس جیو فینسنگ، بیک ٹریکنگ اور چوری شدہ فونز کے IMEI تبدیل کرنے والے پورے نیٹ ورک کی نشاندہی پر ہے۔لاہور پولیس کی جانب سے اندرونی احتساب اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بیک وقت آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس کا ڈیجیٹل نظام پہلے ہی FIRs، مقدمات، ریکوری اور تفتیشی ریکارڈ کی مانیٹرنگ کیلئے استعمال ہو رہا ہے، جبکہ e-Gadget موبائل فونز کی شناخت اور چوری شدہ ڈیوائسز کی روک تھام کیلئے موجود نظام کا حصہ ہے۔
206 افسران، اہلکاروں کو اہم عہدوں سے ہٹا کر آفس ورک پر تعینات کا فیصلہ



















