لاہور (نعیم جاوید) سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کے ملکی معیشت، کاروباری سرگرمیوں، صنعتی پیداوار اور عام صارف پر ملے جلے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، کاروباری و صنعتی حلقوں کے مطابق شرح سود میں مزید کمی نہ ہونے سے بینکوں سے قرض لینے والے تاجروں اور صنعتکاروں کی مالی لاگت فوری طور پر کم نہیں ہوگی جبکہ نئی سرمایہ کاری، صنعتی توسیع اور کاروباری منصوبوں پر بھی دباو برقرار رہ سکتا ہے، تاہم معاشی ماہرین کے مطابق موجودہ مہنگائی کے دباو کے پیش نظر شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے سے قیمتوں میں اضافے کی رفتار کو قابو میں رکھنے اور معیشت میں مالیاتی استحکام برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق اگست 2026 میں مہنگائی بڑھ کر 11.1 فیصد ہوگئی جو جولائی میں 9.2 فیصد تھی، اسلئے زری پالیسی میں محتاط رویہ اختیار کیا گیا ہے تاجر اور صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ 11.5 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث کاروباری قرضوں کی لاگت بدستور بلند رہے گی، خصوصاً چھوٹی اور درمیانی صنعتیں جنہیں روزمرہ کاروباری اخراجات، خام مال کی خریداری، مشینری اور پیداواری ضروریات کیلئے بینک فنانسنگ درکار ہوتی ہے، ان کیلئے شرح سود میں فوری کمی نہ ہونا مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ کاروباری حلقوں کے مطابق بلند شرح سود سے کاروبار کی مجموعی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور سرمایہ کاری کے نئے منصوبوں پر منافع کا تخمینہ متاثر ہوسکتا ہے، جس کے باعث بعض کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری موخر کرنے یا محدود کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیںصنعتی شعبے کیلئے پالیسی ریٹ کا موجودہ سطح پر برقرار رہنا خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ پیداواری شعبہ پہلے ہی بجلی، گیس، خام مال، ٹیکس اور دیگر کاروباری اخراجات کے دباو کا سامنا کر رہا ہے۔ صنعتکاروں کے مطابق اگر شرح سود میں کمی کی جاتی تو صنعتی فنانسنگ سستی ہونے سے پیداواری استعداد بڑھانے، نئی مشینری نصب کرنے اور کاروبار کو وسعت دینے کے امکانات پیدا ہوسکتے تھے، تاہم موجودہ شرح پر برقرار رہنے سے صنعتوں کو سرمایہ کاری کے فیصلوں میں مزید احتیاط کرنا پڑے گی۔ دوسری جانب معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود میں بہت تیزی سے کمی بھی مہنگائی، درآمدات اور روپے کی قدر پر دباو پیدا کرسکتی ہے، اس لئے مرکزی بینک کو معاشی نمو اور قیمتوں کے استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا عام صارف کیلئے بھی شرح سود برقرار رہنے کے مختلف اثرات سامنے آسکتے ہیں۔ بینکوں سے گھر، گاڑی یا دیگر ضروریات کیلئے قرض لینے والے صارفین کو فوری طور پر سستی فنانسنگ دستیاب ہونے کا امکان کم ہے، جبکہ کاروباری اداروں کی فنانسنگ لاگت برقرار رہنے کی صورت میں بعض اشیاءاور خدمات کی قیمتوں پر بھی بالواسطہ دباو رہ سکتا ہے۔ تاہم اگر موجودہ شرح سود مہنگائی کی رفتار کم کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو مستقبل میں صارفین کو قیمتوں میں نسبتاً استحکام کی صورت میں فائدہ مل سکتا ہے شرح سود برقرار رہنے سے بینکوں میں رقوم جمع کرانے والے افراد کیلئے بھی نسبتاً بہتر منافع کا ماحول برقرار رہنے کی توقع ہے، کیونکہ بلند شرح سود عموماً بچت اور بینک ڈپازٹس کو پرکشش بناتی ہے، تاہم اس کا حقیقی فائدہ مہنگائی کی شرح، بینکوں کی جانب سے ڈپازٹ پر دی جانے والی شرح اور ٹیکس کے اثرات سے مشروط ہوگا۔ دوسری جانب اگر نجی شعبے کی جانب سے قرض لینے کی طلب کم رہتی ہے تو بینکوں کے قرضوں کے کاروبار اور نجی سرمایہ کاری کی رفتار بھی متاثر ہوسکتی ہے روزگار کے حوالے سے کاروباری و صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلند فنانسنگ لاگت نئی صنعتوں، کاروباری توسیع اور پیداواری منصوبوں کی رفتار سست کرسکتی ہے جس سے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، تاہم اگر مہنگائی پر قابو پانے اور معاشی استحکام میں بہتری آتی ہے تو طویل مدت میں کاروباری اعتماد بحال ہونے سے روزگار کے مواقع میں اضافے کی گنجائش بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ موجودہ مہنگائی کے دباو، عالمی اجناس اور توانائی کی قیمتوں، بیرونی معاشی حالات اور ملکی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں شرح سود کے فیصلے مہنگائی کے رجحان، بنیادی مہنگائی، روپے کی قدر، بیرونی ادائیگیوں، نجی شعبے کے قرض اور صنعتی پیداوار کے اعدادوشمار سے منسلک ہوں گے۔ کاروباری حلقے تاہم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مہنگائی میں کمی کے ساتھ ہی شرح سود کو مرحلہ وار کم کیا جائے تاکہ صنعت اور تجارت کو سستی فنانسنگ میسر آسکے اور نئی سرمایہ کاری، پیداواری سرگرمی، برآمدات اور روزگار میں اضافہ ہوسکے تاجروں اور صنعتکاروں کے مطابق ملکی معیشت کو اس وقت ایسے مالیاتی ماحول کی ضرورت ہے جس میں مہنگائی کو بھی قابو میں رکھا جائے اور کاروباری شعبے کو سستی فنانسنگ بھی دستیاب ہو، کیونکہ طویل عرصے تک بلند شرح سود برقرار رہنے سے پیداواری لاگت، سرمایہ کاری اور کاروباری مسابقت متاثر ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں حالیہ تیزی کے دوران فوری طور پر شرح سود کم کرنے سے قیمتوں کے دباو¿ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، اس لئے مرکزی بینک کیلئے آئندہ مہینوں میں مہنگائی اور معاشی نمو کے اعدادوشمار کا مسلسل جائزہ لینا ضروری ہوگا مجموعی طور پر پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے سے ایک طرف مہنگائی اور مالیاتی استحکام کو ترجیح ملتی ہے جبکہ دوسری طرف قرض لینے والے کاروباری اداروں، صنعتوں اور صارفین کیلئے فنانسنگ کی لاگت میں فوری ریلیف نہیں ملتا۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے اثرات کا حتمی اندازہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی، نجی شعبے کے قرض، صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار کے اعدادوشمار سامنے آنے کے بعد ہی لگایا جاسکے گا۔
پالیسی ریٹ برقرار،کاروبار اور صنعت کیلئے فنانسنگ لاگت برقرار رہنے کا خدشہ

















