امریکہ کاساتھ دینے والے علاقائی ممالک کو کوئی رعایت نہیں ملے گی، ایران

تہران:(مشرق نیوز)ایران نے قطر ،پاکستان کے ذریعے پیغامات پہنچانے کی تصدیق کرتے ہوئے امریکہ کاساتھ دینے والے علاقائی ممالک کو وارننگ بھی دےدی۔

سپیکر باقر قالیباف نے کہاایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو پیغامات و شرائط سے آگاہ کردیا،جنگ کی باتیں تو کی جاتی ہیں لیکن حتمی و موثر خاتمے کےلئے کوئی لائحہ عمل یا طریقہ کار موجود نہیں ،بیک وقت لڑنا اور مذاکرات بھی کرنے چاہئیں، تہران اپنے دشمنوں کو پیچھے دھکیلنے کےلئے فوجی طاقت استعمال کرے گا، مناسب وقت آنے پر میدان جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کےلئے سفارت کاری سے کام لیں گے۔

باقر قالیباف نے کہاثالثوں کے ذریعے پیغامات کی ترسیل ،دوسرے فریق کے سامنے اپنی شرائط کی وضاحت کر دی ،شرائط پوری ہونے تک مذاکرات بحال اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی،مغربی ایشیا میں پرانا امریکی نظام تباہ ہوچکا ،خطے کے ممالک کو نیا علاقائی نظام تشکیل دینا ہوگا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن نے آبنائے ہرمز میں سلامتی کو یقینی بنانے کے سٹریٹجک منصوبے کے آرٹیکل10کی منظوری دےدی ، اہم آبی گزرگاہ سے انٹرنیٹ کیبلز ،ڈیٹا کی ترسیل کے دیگر آلات گزارنے کےلئے ایرانی حکام کی منظوری لازمی ہوگی۔

فوجی کمانڈ نے امریکہ ،علاقائی اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ایران کےخلاف کسی بھی جارحیت کا سخت ،فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،جارحیت کی صورت میں خطے میں موجود امریکہ کے تمام فوجی اڈے ،مفادات نشانے پر ہوں گے، دشمن کا ساتھ دینے والے ممالک کو بھی ایرانی افواج کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانے میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

اپنے بیان میں ایرانی فوجی کمانڈ نے مزید کہابعض علاقائی ممالک کے گرین سگنل پر امریکہ یورپی ملک میں طے شدہ اجلاس کے بعد ایران کےخلاف کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے،خطے کے ممالک امریکی اقدامات میں اتحادی بنیں گے توکارروائیوں میں برابر کا شریک تصور کیا جائے گا اور ایسے ممالک کو ایرانی مسلح افواج سے کسی قسم کے تحمل کی توقع نہیں رکھنی چاہیے،تکلیف دہ حملوں کی کی کوئی حد نہیں ہوگی۔