باغبانپورہ، سنگھ پورہ سبزی منڈی کے اطراف خودساختہ ریڑھی بازار قائم و دائم

لاہور (خبرنگار/ تصاویر: شاہنواز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے تجاوزات کے خاتمے کیلئے ببانگ دہل اعلانات کے باوجود نہ تجاوزات کا خاتمہ ہو سکا اور نہ ہی ان کے مبینہ سہولت کاروں کو کوئی سزا مل سکی۔ شالامار زون کی حدود میں باغبانپورہ اور سنگھ پورہ سبزی منڈی کے گرد خود ساختہ ریڑھی بازار آج بھی پوری آب و تاب سے سجا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس بازار کی پشت پناہی مبینہ طور پر زونل افسر ریگولیشن شہزاد رسول کر رہے ہیں جبکہ ان کا مبینہ کارخاص شیراز ریڑھی بازار کی سرپرستی کے عوض بھاری بھتہ وصول کرتا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس رقم میں ایم او آر برابر کا حصہ دار ہے اور رات گئے شالامار زون کے دفتر میں مبینہ طور پر ”حصہ داریاں” تقسیم کی جاتی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جن اہلکاروں کی بنیادی ذمہ داری تجاوزات کا خاتمہ اور سڑکوں کو واگزار کرانا ہے، انہی پر مبینہ طور پر تجاوزات کے محافظ بننے کے الزامات عائد ہو رہے ہیں۔ دن بھر باغبانپورہ اور منڈی کے گرد سڑکوں پر ریڑھیوں کی قطاریں ٹریفک کی روانی متاثر کرتی ہیں، جبکہ صبح و شام ٹریفک جام معمول بن چکا ہے۔ ایسے میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دعوے اور زمینی صورتحال ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔ معاملے کا مالی پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مبینہ وصولیوں کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو جو رقم سرکاری فیس، جرمانوں یا دیگر محصولات کی صورت میں قومی خزانے میں جمع ہونی چاہیے، وہ مبینہ طور پر چند افراد کی جیبوں تک پہنچ رہی ہے۔ دوسری جانب قانونی دکاندار اور تاجر غیر قانونی ریڑھی بازار کے باعث متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ ٹریفک جام کے نتیجے میں شہریوں کا وقت اور ایندھن بھی ضائع ہو رہا ہے۔ تجاوزات کے خاتمے کیلئے سرکاری سطح پر بلند بانگ دعووں کے برعکس اگر کسی سرکاری زون میں تجاوزات برقرار رہنے کے ساتھ ان کی مبینہ سرپرستی اور وصولیوں کا سلسلہ بھی چل رہا ہو تو کارروائی کی افادیت خود سوال بن جاتی ہے۔ معاملے میں لگنے والے الزامات کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کا تعین ہی یہ واضح کر سکتا ہے کہ تجاوزات کے خلاف مہم واقعی قانون کی عملداری کیلئے ہے یا محض کاغذی کارروائی تک محدود ہے۔