سائنسدانوں نے ٹی بی کیلئے نئی ٹیسٹ ٹیکنالوجی تیار کرلی

کیلیفورنیا (مشرق نیوز) یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس کے محققین نے تپ دق (ٹی بی) کیلئے ایک نئی بلڈ ٹیسٹ ٹیکنالوجی تیار کی ہے، جو بیماری کی فعال اور متعدی (پھیلنے والی) شکل کی درست شناخت کر سکتی ہے۔ اس پیشرفت کا مقصد نہ صرف تیز رفتار تشخیص اور بروقت علاج کو ممکن بنانا ہے بلکہ نشاندہی کے ذریعے ٹی بی کے پھیلاو کو بھی روکنا ہے۔

فی الحال استعمال ہونے والے ٹی بی ٹیسٹ یہ تفریق نہیں کر پاتے کہ انفیکشن فعال ہے یا پوشیدہ۔ اگرچہ ٹی بی، مائیکو بیکٹیریم ٹیوبر کلوسس نامی جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن صرف وہی افراد بیماری دوسروں تک منتقل کرتے ہیں جن میں انفیکشن فعال ہویعنی وہ کھانسنے، چھینکنے یا بات کرنے کے دوران جراثیم پھیلا سکتے ہیں۔

ٹی بی سے متاثرہ ممالک میں تقریباً 35 سے 40 فی صد عام آبادی میں یہ انفیکشن پوشیدہ حالت میں موجود ہوتا ہے یعنی لوگ اس جراثیم کے سامنے آ چکے ہوتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ وہ کبھی بیمار ہوں۔ ایسے میں وہ ٹیسٹ جو پوشیدہ انفیکشن پر بھی مثبت نتیجہ دے، فعال ٹی بی کے مریضوں کی شناخت کیلئے زیادہ موثر نہیں، کیونکہ اصل خطرہ انہی افراد سے ہوتا ہے جو بیماری کو نادانستہ طور پر دوسروں تک پھیلا سکتے ہیں۔

یہ نئی تحقیق مستقبل میں ٹی بی کے خلاف جنگ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔