تہران:(مشرق نیوز)ایران نے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور منجمد اثاثے بحال کرنے کی شرط رکھ دی۔
سپیکر باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہافریقین کے درمیان باہمی طور پر طے پانےوالے 2نکات پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا ،بات چیت سے قبل لبنان میں جنگ بندی ،ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے کی شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے۔
نائب صدر رضا عارف نے کہا ایران اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات میں بھرپور و فعال شرکت کرے گا تاہم امریکی روئیے پر گہرے شکوک و شبہات بدستور موجود ہیں،امریکہ کی دھوکہ دہی والی فطرت کے باعث ایران محتاط انداز اپنائے گاپھر بھی سفارتی عمل آگے بڑھانے کےلئے سنجیدہ ہے،جنگ بندی پاکستانی کوششوں سے ممکن ہوئی،کردار کو سراہتے ہیں۔
رضا عارف نے کہا ایران مذاکرات میں مکمل اختیار ،واضح حکمت عملی کےساتھ شریک ہوگا، مقصد حالیہ فوجی کامیابیوں کو سفارتی سطح پر مزید مضبوط بنانا ہے،40 دنوں کی جنگ کے دوران دشمن کے اندازوں کو غلط ثابت کردیا،مرحلہ خطے میں بڑی سٹریٹجک تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے،قوم کے عزم ،عوامی مظاہروں نے دشمن کو سیاسی و سکیورٹی محاذوں پر شکست دی،مظاہرے ایران کی سافٹ پاور ہیں۔
نائب وزیر خارجہ تخت روانچی نے کہا ایران سفارت کاری ، مذاکرات پر یقین رکھتا ہے،جارح کو دوبار حملے کی اجازت دینے والی جنگ بندی نہیں چاہتے،معاہدے میں دشمنی روکنے کی ضمانتیں شامل ہونی چاہئیں۔
دریں اثناسپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے پڑوسی ممالک کے نام پیغام میں کہاآپ معجزہ ہوتے دیکھ رہے ہیں، حق کیساتھ کھڑے ہوں،شیطانی قوتوں کے جھوٹے وعدوں پر کبھی بھروسہ نہ کریں،خطے کے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لےکر درست موقف اختیار کرتے ہوئے حق کےساتھ کھڑے ہوجائیں۔
ادھر ایرانی افواج نے کہاامریکی و صہیونی دشمنوں کی ماضی کی وعدہ خلافیوں کے باعث مکمل الرٹ اور ہر وقت کارروائی کےلئے تیار ہیں،جارح قوتوں کو ہرگز نہیں چھوڑا جائے گا، آبنائے ہرمز کے انتظام کو نئے مرحلے میں داخل کریں گے،اہم آبی گزرگاہ پر برتری برقرار رکھی جائے گی،دشمن کی جانب سے حزب اللہ اور لبنان کے عوام پر حملے جاری رہے تو ایران شدید و تکلیف دہ ردعمل دے گا۔
مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی ،منجمد اثاثے بحال کیے جائیں،ایران


















